علامہ محمد اقبال برصغیر کے عظیم مفکر، شاعر، فلسفی اور دانش ور تھے۔ ان کی شاعری اور فکر نے مسلمانوں میں خودی، بیداری، اتحاد، آزادی اور ملی شعور کا جذبہ پیدا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اقبال کی شخصیت اور فکر کو قومی، ادبی، علمی اور تحقیقی سطح پر سمجھنے اور متعارف کرانے کی کوششیں تیز ہوئیں۔ اسی علمی و تحقیقی عمل کو اقبال شناسی کہا جاتا ہے۔ اقبال شناسی سے مراد اقبال کی زندگی، شخصیت، شاعری، فلسفے، سیاسی افکار، مذہبی تصورات اور ادبی خدمات کا مطالعہ اور تحقیق ہے۔
۱۹۴۷ء میں پاکستان کے قیام کے بعد اقبال کو قومی شاعر اور مفکر کی حیثیت سے خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ نئی ریاست میں اقبال کے افکار کو قومی شناخت، نظریاتی شعور اور تہذیبی تشخص کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ ان کی شاعری میں موجود خودی، عمل، حریت، اتحادِ ملت اور خود اعتمادی کے تصورات کو قومی زندگی سے مربوط کیا گیا۔ اس دور میں اقبال کے کلام کی اشاعت، تشریح اور ترویج کے لیے مختلف علمی و ادبی اداروں نے کام شروع کیا۔
پاکستان میں اقبال شناسی کے فروغ میں اقبال اکادمی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد اقبال کے افکار و نظریات پر تحقیق، ان کی تصانیف کی اشاعت اور اقبال سے متعلق علمی مواد کو محفوظ کرنا تھا۔ اکادمی نے اقبال کے اردو، فارسی اور انگریزی کلام کے تراجم، تحقیقی کتابوں، مقالات اور مجلات کی اشاعت کے ذریعے اقبال شناسی کو فروغ دیا۔ اس کے علاوہ اقبال کے افکار پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیمینارز اور علمی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا رہا ہے۔
اقبال شناسی کے فروغ میں مختلف اہلِ علم اور محققین نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے والد کی زندگی، شخصیت اور فکر پر اہم تحقیقی کام کیا۔ ان کی کتاب زندہ رود اقبال کی سوانح اور فکری ارتقا کے مطالعے میں اہم مقام رکھتی ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے اقبال کے فلسفے اور تصوف کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا۔ ان کی تصانیف میں اقبال کے فکری نظام اور فلسفیانہ تصورات کا تفصیلی جائزہ ملتا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور دیگر محققین نے بھی اقبال کے کلام، شخصیت اور افکار پر قابلِ قدر تحقیقی کام کیا۔
پاکستان میں اقبال شناسی کا ایک اہم پہلو اقبال کے فلسفۂ خودی کا مطالعہ ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی سے مراد انسان کی اپنی شخصیت، خود اعتمادی، قوتِ ارادی اور باطنی صلاحیتوں کی پہچان ہے۔ انہوں نے انسان کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، مسلسل جدوجہد کرنے اور اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کا درس دیا۔ پاکستانی محققین نے خودی کے تصور کو اقبال کے فکری نظام کا بنیادی جزو قرار دیتے ہوئے اس کے مختلف فلسفیانہ اور اخلاقی پہلوؤں پر تحقیق کی ہے۔
اقبال شناسی میں اقبال کے سیاسی افکار اور تصورِ پاکستان کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ۱۹۳۰ء کے خطبۂ الٰہ آباد میں اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس خطبے اور اقبال کے دیگر سیاسی افکار پر وسیع علمی و تحقیقی بحث ہوئی۔ محققین نے اقبال کے تصورِ ملت، اسلامی ریاست، جمہوریت اور اجتماعی زندگی کے تصورات کا مختلف زاویوں سے مطالعہ کیا۔
اسی طرح اقبال کے فلسفۂ تعلیم، تصورِ انسان، تصورِ عشق، اجتہاد، اسلامی تہذیب اور مغربی فکر پر تنقیدی آرا کو بھی اقبال شناسی کا حصہ بنایا گیا۔ جامعات میں اقبالیات کو ایک مستقل علمی و تحقیقی موضوع کی حیثیت حاصل ہوئی۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اقبال کی شاعری اور فکر کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مقالات لکھے گئے۔ مختلف ادبی رسائل اور تحقیقی جرائد نے بھی اقبال شناسی کے فروغ میں حصہ لیا۔
موجودہ دور میں اقبال شناسی کے دائرے میں مزید وسعت پیدا ہوئی ہے۔ جدید تحقیقی طریقوں، ڈیجیٹل لائبریریوں، آن لائن علمی ذخائر اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے ذریعے اقبال کے افکار کو نئی نسل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اقبال کے کلام کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ دنیا کے مختلف معاشروں میں ان کے پیغام کو سمجھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقبال کے افکار کو جدید دور کے سماجی، تہذیبی، تعلیمی اور فکری مسائل کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
مختصراً، ۱۹۴۷ء سے آج تک پاکستان میں اقبال شناسی نے مختلف مراحل طے کیے ہیں۔ ابتدا میں اقبال کی قومی اور ملی حیثیت کو نمایاں کیا گیا، بعد ازاں ان کے فلسفے، شاعری، سیاسی نظریات اور فکری نظام پر منظم تحقیق کا آغاز ہوا۔ اقبال اکادمی پاکستان، جامعات، محققین اور ادبی اداروں نے اس سلسلے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اقبال شناسی آج بھی ایک زندہ علمی و تحقیقی شعبہ ہے، جو نئی نسل کو اقبال کے افکار سے روشناس کرانے اور ان کے پیغام کو عصری تقاضوں کے مطابق سمجھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔



