کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

عزیز اللہ عابد، سوانح شخصیت اور شاعری

عزیز اللہ عابد کا شمار معاصر اردو شاعری کے ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے غزل اور ہائیکو کے ذریعے اپنے تخلیقی احساسات کا اظہار کیا۔ ان کی شاعری میں جذبے کی لطافت، مشاہدے کی گہرائی، زندگی کے تجربات اور انسانی رشتوں کی معنویت نمایاں ہے۔ ان کی شعری شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے مختصر شعری اظہار میں بھی وسیع معنوی امکانات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے شعری مجموعوں میں چاندنی کی پھوار اور ہتھیلی پہ رقص خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اول الذکر مجموعہ 1994ء میں شائع ہوا، جس میں ہائیکو شامل ہیں، جب کہ دوسرا مجموعہ 2007ء میں منظرِ عام پر آیا، جس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔

عزیز اللہ عابد کی سوانحی زندگی کے بارے میں دستیاب معلومات محدود ہیں۔ ان کے تعارف سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انھوں نے معاشی اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ادبی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا۔ ان کی تعلیمی زندگی میں معاشیات کا مطالعہ شامل رہا اور انھوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی معاشیات کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا تعلق بینکاری کے شعبے سے بھی رہا۔ اس اعتبار سے ان کی شخصیت میں ایک طرف عملی زندگی کی مصروفیات اور دوسری طرف تخلیقی اظہار کا ذوق یکجا دکھائی دیتا ہے۔

ان کی شعری شخصیت کا ایک نمایاں پہلو مختلف اصنافِ سخن سے دلچسپی ہے۔ انھوں نے ہائیکو، غزل اور نظم کے میدان میں طبع آزمائی کی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ چاندنی کی پھوار 1994ء میں شائع ہوا، جس میں ہائیکو شامل ہیں۔ اس مجموعے کے ذریعے انھوں نے اردو میں جاپانی صنفِ سخن ہائیکو کے امکانات سے اپنی تخلیقی وابستگی کا اظہار کیا۔ ہائیکو اپنی اختصار پسندی، فطرت سے قربت اور لمحاتی تجربے کی معنوی تشکیل کے باعث ایک منفرد صنف ہے۔ اس میں شاعر کو محدود الفاظ میں ایک مکمل کیفیت یا مشاہدے کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ عزیز اللہ عابد نے اس صنف کو اپنے شعری اظہار کا ذریعہ بنا کر مختصر شعری پیکروں میں خیال اور جذبے کی ترجمانی کی کوشش کی۔

ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہتھیلی پہ رقص 2007ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ اس مجموعے کی اشاعت سے ان کی تخلیقی دلچسپیوں میں وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ غزل کے ذریعے انھوں نے انسانی جذبات، محبت، تعلقات اور زندگی کے مختلف تجربات کو شعری اظہار دیا، جب کہ نظم میں موضوعاتی اظہار کے نسبتاً وسیع امکانات سے استفادہ کیا۔ ان کے دونوں مجموعے ان کی شعری شخصیت کے دو مختلف لیکن مربوط پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

عزیز اللہ عابد کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے فطرت سے ان کی وابستگی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ہائیکو جیسی صنف میں فطرت کے مظاہر محض خارجی مناظر نہیں رہتے بلکہ انسانی احساسات اور داخلی کیفیات کی ترجمانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چاندنی، پھول، موسم، ہوا، بارش اور روشنی جیسے مظاہر شعری اظہار میں ایک خاص معنوی فضا پیدا کرتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعے چاندنی کی پھوار کا عنوان بھی فطرت اور جمالیاتی احساس سے ان کی تخلیقی وابستگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حوالے سے ان کی شاعری کو فطرت کے مشاہدے اور انسانی احساس کے باہمی تعلق کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کی غزل گوئی کا ایک اہم پہلو انسانی جذبات کی ترجمانی ہے۔ غزل اردو شاعری کی ایسی صنف ہے جس میں شاعر اپنی ذات کے تجربات کو آفاقی انسانی احساسات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عزیز اللہ عابد نے بھی غزل کے ذریعے اپنے مشاہدات اور جذبات کے اظہار کی کوشش کی۔ محبت، یاد، انتظار، انسانی تعلقات اور زندگی کی ناپائیداری جیسے موضوعات غزل کی روایت سے وابستہ ہیں۔ ان موضوعات کو جدید زندگی کے تجربات کے ساتھ مربوط کرنا معاصر غزل گوئی کا ایک اہم تقاضا ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں