ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ان اہم اور مؤثر ادبی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے جس نے محض ادبی ذوق و اسلوب کو متاثر نہیں کیا بلکہ ادب کے سماجی، سیاسی، تہذیبی اور فکری کردار کے بارے میں بھی بنیادی سوالات اٹھائے۔ اس تحریک کی باقاعدہ تنظیمی صورت 1936ء میں لکھنؤ میں سامنے آئی، اگرچہ اس کے فکری اور تنظیمی خدوخال اس سے قبل لندن میں تشکیل پاچکے تھے۔ 1935ء میں تیار ہونے والے منشور اور 1936ء کی پہلی کل ہند کانفرنس نے اس تحریک کو باقاعدہ ادارہ جاتی بنیاد فراہم کی۔ پریم چند نے اس کانفرنس کی صدارت کی اور ادب کو زندگی کے حقیقی مسائل سے وابستہ کرنے پر زور دیا۔
ترقی پسند تحریک کی تاریخ لکھنے کا مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ یہ تحریک محض ایک ادبی رجحان نہیں تھی بلکہ اپنے عہد کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات سے گہرا ربط رکھتی تھی۔ اس کے پس منظر میں نوآبادیاتی نظام، سرمایہ دارانہ استحصال، طبقاتی ناہمواری، فسطائیت کے خلاف مزاحمت، آزادی کی جدوجہد اور سوشلسٹ افکار کا پھیلاؤ شامل تھا۔ چنانچہ اس تحریک کی تاریخ کو صرف ادبی تخلیقات کی تاریخ کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ مختلف مؤرخین نے اپنی علمی ترجیحات کے مطابق اس کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک کی متعدد تاریخیں ایک دوسرے کی تکرار ہونے کے بجائے مختلف زاویۂ نظر پیش کرتی ہیں۔
ترقی پسند تحریک کی تاریخ کے سلسلے میں امر امیری کی کتاب ترقی پسند تحریک: تاریخ و تجزیہ خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے تحریک کی تاریخی تشکیل کے ساتھ اس کے ادبی سرمائے کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ امر امیری کا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ وہ تحریک کو محض واقعات کی زمانی ترتیب میں بیان نہیں کرتے بلکہ اس کے فکری اور ادبی نتائج کو بھی موضوع بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک ترقی پسند تحریک کی مقبولیت کا ایک سبب اس کا نیا منشور اور اس کے تحت پیدا ہونے والا ادب تھا، جب کہ اس کی مخالفت کی ایک وجہ ادب کو مخصوص نظریاتی دائرے میں محدود کرنے کا رجحان بھی تھا۔ یوں امر امیری کی تاریخ میں تحریک کی کامیابیوں کے ساتھ اس کے داخلی مسائل بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔
امر امیری کے طریقۂ کار کو تجزیاتی کہا جاسکتا ہے۔ وہ تحریک کو محض عظمت کے ایک مسلسل بیانیے کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ اس کی مقبولیت، اثر پذیری اور محدودیتوں کو بھی زیرِ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو کیا دیا اور اس کے نظریاتی تقاضوں نے ادبی تخلیق پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کیے۔ اس زاویے سے ان کی کتاب ادبی تاریخ اور تنقیدی تجزیے کے درمیان ایک رشتہ قائم کرتی ہے۔
اس کے مقابلے میں ڈاکٹر عبد القیوم شمسی کی ترقی پسند تحریک کی تاریخ (1935ء سے 1985ء تک) ایک نسبتاً وسیع زمانی دائرہ اختیار کرتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اس بات میں ہے کہ مصنف نے تحریک کی تاریخ کو 1936ء کے آغاز تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے بعد کے ارتقائی مراحل کو بھی شامل کیا ہے۔ کتاب کا زمانی پھیلاؤ یہ امکان پیدا کرتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کو صرف اس کے عروج کے زمانے میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے اثرات، تنظیمی صورتوں، ادبی تسلسل اور تاریخی تبدیلیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جائے۔
دونوں مؤرخین کے تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کی تاریخ کو دو بنیادی سطحوں پر دیکھا گیا ہے: ایک سطح تحریک کے تشکیلی اور نظریاتی مرحلے کی ہے، جبکہ دوسری سطح اس کے طویل المدت اثرات اور تاریخی تسلسل کی۔ امر امیری کا زور تاریخ کے ساتھ تجزیے پر زیادہ محسوس ہوتا ہے، جب کہ عبد القیوم شمسی کا کام زمانی وسعت کے اعتبار سے زیادہ جامع دکھائی دیتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے دونوں کتابیں ایک ہی تحریک کے باوجود مختلف علمی ضروریات پوری کرتی ہیں۔
ڈاکٹر صادق کی ترقی پسند تحریک اور اردو افسانہ 1936ء سے 1956ء تک ایک مختلف نوعیت کی تاریخ پیش کرتی ہے۔ یہاں پوری تحریک کے بجائے اردو افسانے کو مرکزی نقطۂ نظر بنایا گیا ہے۔ مصنف پہلے سیاسی، سماجی اور ادبی پس منظر واضح کرتے ہیں، اس کے بعد ترقی پسند افسانے کے آغاز، اہم افسانہ نگاروں، موضوعات، اسلوب اور تکنیک کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس طرح یہ کتاب تحریک کی عمومی تاریخ سے زیادہ اس کے ایک اہم ادبی مظہر کی تاریخ بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر صادق کے کام کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ادبی تحریکیں محض منشور اور تنظیموں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کی حقیقی قوت تخلیقی ادب میں ظاہر ہوتی ہے۔ ترقی پسند تحریک کے اثرات اردو افسانے میں غربت، طبقاتی کشمکش، عورت، مزدور، کسان، جنسی اور معاشرتی جبر، جنگ، بھوک، آزادی اور انسانی محرومی جیسے موضوعات کی صورت میں نمایاں ہوئے۔ اس اعتبار سے افسانے کی تاریخ ترقی پسند تحریک کی عملی ادبی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے۔
سجاد ظہیر اور ترقی پسند تحریک کے حوالے سے مرتب کیے گئے مطالعات میں تحریک کے نظریاتی اور تنظیمی پہلو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ترقی پسند تحریک کے ابتدائی مراحل میں سجاد ظہیر، احمد علی، ملک راج آنند اور محمد دین تاثیر سمیت متعدد ادیبوں کی فکری سرگرمیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ لندن میں تیار ہونے والا منشور بعد میں ہندوستان میں تنظیمی بنیاد کا حصہ بنا اور 1936ء کی لکھنؤ کانفرنس میں انجمن ترقی پسند مصنفین نے باقاعدہ شکل اختیار کی۔
اس نوع کے مطالعات میں ترقی پسند تحریک کو ایک منظم ادبی اور فکری تحریک کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ اس زاویے میں منشور، تنظیم، کانفرنسیں، شاخیں، رسائل، ادیبوں کی وابستگی اور نظریاتی مباحث بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں امر امیری جیسے ناقدانہ زاویے تحریک کے ادبی نتائج اور نظریاتی حدود کو بھی بحث کا حصہ بناتے ہیں۔ چنانچہ ایک طرف تحریک کی تنظیمی تاریخ سامنے آتی ہے اور دوسری طرف اس کے ادبی تجربے کی تنقیدی تفہیم۔
ترقی پسند تحریک کی تاریخوں کے تقابلی مطالعے سے ایک اہم مسئلہ آغاز کی تعیین کا سامنے آتا ہے۔ بعض مطالعات میں 1936ء کو تحریک کا باقاعدہ آغاز قرار دیا جاتا ہے، جب کہ اس کے فکری پس منظر کو 1930ء کی دہائی کے اوائل اور لندن میں قائم ہونے والی سرگرمیوں تک لے جایا جاتا ہے۔ اس لیے 1936ء کو تحریک کا آغاز کہنا بنیادی طور پر اس کی باقاعدہ ہندوستانی تنظیم اور پہلی کل ہند کانفرنس کے حوالے سے درست ہے، جب کہ اس کے فکری اور تنظیمی مقدمات اس سے پہلے تشکیل پاچکے تھے۔
اسی طرح تحریک کے اختتام کے بارے میں بھی یکساں رائے نہیں ملتی۔ اگر تحریک کو ایک باقاعدہ تنظیمی سرگرمی کے طور پر دیکھا جائے تو اس کے عروج کا زمانہ آزادی سے قبل اور آزادی کے ابتدائی برسوں میں نمایاں ہوتا ہے، لیکن اگر اسے ایک فکری اور ادبی رجحان کے طور پر دیکھا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ دیر تک جاری رہتے ہیں۔ آکسفورڈ کے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق ترقی پسند تحریک نے تقریباً تین دہائیوں تک ہندوستان کے سیاسی، سماجی اور ادبی منظرنامے میں نمایاں کردار ادا کیا اور آزادی سے پہلے استعمار و آزادی کے مباحث جبکہ آزادی کے بعد نئی ریاست اور معاشرے کے سوالات اس کے اہم موضوعات رہے۔
ترقی پسند تحریک کی تاریخ نویسی کا ایک اور اہم پہلو ادب اور سیاست کا تعلق ہے۔ ترقی پسند مؤرخین کے ہاں ادب کو سماجی تبدیلی کا ذریعہ سمجھنے کا رجحان نمایاں ہے۔ تحریک کے منشور میں ادیب سے یہ توقع وابستہ کی گئی کہ وہ معاشرتی حقیقتوں سے آنکھ نہ چرائے اور انسانی آزادی، مساوات اور ترقی کے مسائل کو ادب کا موضوع بنائے۔ اس تصور نے اردو ادب کے موضوعاتی دائرے کو وسیع کیا۔
تاہم ترقی پسند تحریک کی تاریخوں میں ایک تنقیدی مسئلہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ بعض اوقات ادبی قدر و قیمت کو نظریاتی وابستگی کے پیمانے سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں کسی تخلیق کی فنی پیچیدگی، جمالیاتی انفرادیت اور اسلوبیاتی تجربے کے مقابلے میں اس کے سیاسی یا سماجی پیغام کو زیادہ اہمیت مل سکتی ہے۔ امر امیری کے تجزیے میں یہی پہلو تحریک کی مقبولیت کے ساتھ اس کی ناقدانہ تفہیم کا باعث بنتا ہے۔
تقابلی مطالعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کی تاریخ صرف ترقی پسند ادیبوں کی تاریخ نہیں ہے۔ اس تحریک کے اثرات اردو کے علاوہ ہندوستانی زبانوں کے ادب پر بھی پڑے۔ اس سے وابستہ ادیبوں میں پریم چند، فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، عصمت چغتائی، کرشن چندر، کیفی اعظمی اور علی سردار جعفری جیسے اہم نام شامل ہوئے۔ اس وسیع ادبی وابستگی نے تحریک کو محض ایک محدود نظریاتی گروہ کے بجائے ایک وسیع ادبی رجحان میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔
مجموعی طور پر ترقی پسند تحریک کی مختلف تاریخوں کا مطالعہ یہ نتیجہ سامنے لاتا ہے کہ کسی ایک کتاب کے ذریعے اس تحریک کی مکمل تفہیم ممکن نہیں۔ امر امیری کی کتاب تحریک کے تاریخی اور تجزیاتی پہلو کو نمایاں کرتی ہے، عبد القیوم شمسی کا کام اس کے زمانی تسلسل کو وسیع کرتا ہے، جب کہ ڈاکٹر صادق کا مطالعہ اس کے افسانوی ادب کے ذریعے تحریک کے تخلیقی اثرات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح سجاد ظہیر اور تحریک کے تنظیمی و نظریاتی مطالعات اس کے منشور، تنظیم اور فکری بنیادوں کو واضح کرتے ہیں۔
لہٰذا ترقی پسند تحریک کی مؤثر تاریخ نویسی کے لیے زمانی، سیاسی، سماجی، نظریاتی، تنظیمی، ادبی اور جمالیاتی تمام پہلوؤں کو باہم مربوط کرکے دیکھنا ضروری ہے۔ محض واقعات کی ترتیب تاریخ کو محدود کردیتی ہے اور صرف ادبی تخلیقات کا مطالعہ تحریک کے وسیع سماجی پس منظر کو نظرانداز کردیتا ہے۔ ایک متوازن تقابلی مطالعہ اس امر کو سامنے لاتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کی اصل اہمیت اس کے منشور یا سیاسی وابستگی میں ہی نہیں بلکہ اس تبدیلی میں بھی ہے جو اس نے اردو ادب کے موضوعات، کرداروں، زبان، حقیقت نگاری، سماجی شعور اور ادیب کے کردار کے تصور میں پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک آج بھی اردو ادبی تاریخ میں ایک ایسے مرحلے کی حیثیت رکھتی ہے جسے سمجھنے کے لیے تاریخ اور تنقید دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔



