کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

رومی اور اقبال کے کلام میں فکری مماثلتیں

مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال مشرقی فکر کے دو ایسے عظیم نام ہیں جن کے کلام میں صدیوں کا فاصلہ ہونے کے باوجود فکری ہم آہنگی اور روحانی مماثلتیں نمایاں طور پر موجود ہیں۔ دونوں شعرا کا بنیادی مقصد انسان کی باطنی اصلاح، خودی کی بیداری اور روحانی ارتقا ہے۔ اگرچہ رومی کی شاعری فارسی زبان میں صوفیانہ روایت کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ اقبال کی شاعری اردو اور فارسی میں جدید دور کے فکری مسائل کا احاطہ کرتی ہے، لیکن دونوں کے فکری سرچشمے ایک ہی سمت یعنی عشقِ الٰہی اور انسان کی تکمیل کی طرف رواں ہیں۔

رومی کے کلام میں عشق کو کائنات کی اصل قوت قرار دیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک عقل محدود ہے جبکہ عشق انسان کو حقیقتِ مطلق تک پہنچاتا ہے۔ یہی تصور اقبال کے ہاں بھی موجود ہے، جہاں وہ عقل کے ساتھ ساتھ عشق کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق انسان کو خودی کی معراج تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح دونوں مفکرین کے ہاں عشق ایک مرکزی فکری قدر کے طور پر سامنے آتا ہے۔

دونوں شعرا کے ہاں انسان کی عظمت کا تصور بھی بڑی حد تک یکساں ہے۔ رومی انسان کو ایک ایسا وجود سمجھتے ہیں جو مسلسل ارتقا کی منزلوں سے گزرتا ہے اور اپنی اصل یعنی خدا کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ اقبال بھی انسان کو “اشرف المخلوقات” نہیں بلکہ ایک ایسی مخلوق سمجھتے ہیں جو اپنے اندر چھپی ہوئی لامحدود صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر “انسانِ کامل” بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے رومی کا “انسانِ کامل” اور اقبال کا “مردِ مومن” ایک دوسرے سے فکری طور پر بہت قریب ہیں۔

رومی کے ہاں حرکت اور مسلسل سفر کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ جمود کو موت کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق کائنات ہر لمحہ حرکت میں ہے اور انسان کو بھی اسی بہاؤ میں شامل رہنا چاہیے۔ اقبال بھی جمود کے سخت خلاف ہیں اور مسلمانوں کو حرکت، عمل اور جدوجہد کا درس دیتے ہیں۔ ان کے ہاں “خودی” کی بقا ہی مسلسل عمل میں پوشیدہ ہے۔ اس طرح دونوں کے فکری نظام میں حرکت ایک بنیادی اصول کے طور پر موجود ہے۔

ایک اور اہم مماثلت یہ ہے کہ دونوں شعرا ظاہری مذہب کے بجائے باطنی روحانیت پر زور دیتے ہیں۔ رومی عبادات کی ظاہری شکل کے بجائے اس کے روحانی مقصد کو اہم سمجھتے ہیں۔ اقبال بھی اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہیں اور مذہب کو محض رسم و رواج کے بجائے ایک زندہ قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو انسان کی شخصیت کو سنوارتی ہے۔ دونوں کے نزدیک اصل دین وہ ہے جو انسان کے اندر محبت، شعور اور خود آگاہی پیدا کرے۔

رومی کے کلام میں “فنا فی اللہ” کا تصور بہت نمایاں ہے، جہاں انسان اپنی انفرادی انا کو ختم کرکے خدا کی ذات میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اقبال “خودی” کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن دونوں کے ہاں تضاد کے بجائے تکمیلی رشتہ موجود ہے۔ رومی کی فنا دراصل نفس کی کمزوریوں سے نجات ہے جبکہ اقبال کی خودی اسی پاکیزہ نفس کی مضبوطی کا نام ہے۔ اس طرح دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی انسان کی روحانی تکمیل۔

رومی اور اقبال دونوں کے ہاں عشق، خودی، انسان کی بلندی اور روحانی سفر جیسے موضوعات ایک ہی فکری سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ دونوں شاعر انسان کو اس کی اصل پہچان دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رومی صوفیانہ انداز میں جبکہ اقبال فلسفیانہ اور انقلابی انداز میں یہی پیغام دیتے ہیں۔

زبان اور اسلوب کے اعتبار سے اگرچہ دونوں مختلف ہیں لیکن ان کے پیغام میں گہری مماثلت موجود ہے۔ رومی کی شاعری میں علامتیں، حکایات اور صوفیانہ استعارے استعمال ہوتے ہیں جبکہ اقبال کی شاعری میں فلسفیانہ فکر، خطابت اور انقلابی جذبہ پایا جاتا ہے۔ تاہم دونوں کا مقصد قاری کو بیداری، شعور اور روحانی ارتقا کی طرف لے جانا ہے۔

نتیجتاً کہا جا سکتا ہے کہ مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال کے کلام میں فکری مماثلتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی فکری ارتقا ایک مسلسل سلسلہ ہے جس میں مختلف ادوار کے مفکرین ایک ہی سچائی کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں۔ دونوں شعرا نے انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کی عظمت اور اس کے روحانی مقصد سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہی ان کے کلام کی سب سے بڑی مشترکہ خصوصیت ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں