کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

تانیثی شعور اور ڈراما، فصیح باری خان کے منتخب ٹی وی ڈراموں کا تانیثی مطالعہ

پاکستانی ٹی وی ڈراما محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی شعور کی تشکیل، اقدار کی باز تشکیل اور عوامی ذہن کی تربیت کا ایک طاقت ور وسیلہ رہا ہے۔ اسی لیے ڈرامے میں عورت کی تصویر، اس کے مسائل، اس کی نفسیات اور اس کی سماجی حیثیت کا مطالعہ تانیثی تنقید کے لیے نہایت اہم ہے۔ تانیثی شعور (Feminist Consciousness) سے مراد عورت کو محض ایک کردار یا پلاٹ کے جزو کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل انسان، صاحبِ ارادہ فرد اور سماجی و تہذیبی ساخت کے اندر جدوجہد کرتی ہوئی ہستی کے طور پر دیکھنا ہے۔ یہ شعور عورت کے تجربے کو مرکز میں رکھتا ہے، مردانہ طاقت کے نظام کو سوال بناتا ہے، اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ عورت کی زندگی پر سماج، خاندان، روایت، مذہبی و اخلاقی بیانیے اور معاشی حقیقتیں کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ فصیح باری خان پاکستانی ٹی وی ڈرامے کے اُن نمایاں ڈراما نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کے ہاں بیانیہ کی قوت، مکالمے کی برجستگی اور کرداروں کی پیچیدگی نمایاں ہے۔ ان کے منتخب ڈراموں کا تانیثی مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ان کی تحریروں میں عورت کس صورت میں سامنے آتی ہے: کیا وہ محض مظلوم اور بے بس ہے یا سوال کرنے والی اور مزاحمت کرنے والی؟ کیا ڈراما عورت کی آزادی کو قبول کرتا ہے یا اسے روایتی اخلاقی حدود میں قید رکھتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فصیح باری خان کے ڈراموں میں عورت کی زندگی کا دکھ محض جذباتی تاثر ہے یا سماجی تنقید کی بنیاد؟

فصیح باری خان کے ڈراموں میں عورت کا کردار عموماً کہانی کے مرکز میں آتا ہے۔ وہ عورت کو صرف گھر کی چار دیواری میں بند روایتی کردار کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ اسے ایک ایسی شخصیت بناتے ہیں جو سماج کے تضادات، طبقاتی تفاوت اور رشتوں کی سیاست سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ تانیثی تنقید کے مطابق عورت کی نمائندگی میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عورت کی “آواز” کہاں ہے؟ کیا عورت خود بولتی ہے یا اس کی طرف سے مرد بولتے ہیں؟ فصیح باری خان کے ہاں اکثر عورت کے کردار مکالمے میں فعال ہوتے ہیں، وہ اپنے دکھ کو بیان بھی کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنے فیصلے بھی خود کرتے ہیں۔ یہ پہلو ان کے ڈراموں کو روایتی “خاموش عورت” کے بیانیے سے مختلف بناتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرتی ڈھانچے کی سختی کے باعث ڈراموں میں عورت کی آزادی اکثر محدود دکھائی دیتی ہے، اور فصیح باری خان کے ہاں بھی کئی جگہ عورت کی جدوجہد ایک ایسے انجام تک پہنچتی ہے جو سماج کی اخلاقی شرطوں کے مطابق ہو۔

تانیثی شعور کے تناظر میں فصیح باری خان کے ڈراموں کا پہلا بڑا موضوع “عورت اور طاقت” ہے۔ طاقت یہاں صرف سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ گھر کے اندر کی طاقت بھی ہے، جو شوہر، باپ، بھائی، ساس یا خاندان کی صورت میں عورت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈراموں میں عورت اکثر ایسے مردانہ نظام کے مقابل آتی ہے جہاں فیصلے مرد کرتے ہیں اور عورت کو صرف اطاعت کا حکم دیا جاتا ہے۔ فصیح باری خان اس طاقت کے نظام کو صرف دکھاتے نہیں بلکہ اس پر طنزیہ یا تلخ انداز میں سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کے مکالمے میں یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ عورت کی زندگی میں سب سے بڑا مسئلہ صرف غربت یا محبت نہیں بلکہ “اختیار کی کمی” ہے۔ عورت اگر تعلیم یافتہ بھی ہو تو اسے خاندان کی روایتیں خاموش کر دیتی ہیں، اور اگر وہ بغاوت کرے تو اسے بدکرداری یا نافرمانی کے القاب دے کر کچل دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فصیح باری خان کا ڈراما تانیثی شعور سے جڑ جاتا ہے کیونکہ وہ عورت کے مسئلے کو فرد کی کمزوری نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے کی ناانصافی قرار دیتا ہے۔

فصیح باری خان کے ڈراموں میں عورت کے کرداروں کے ساتھ طبقاتی مسئلہ بھی جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ تانیثی تنقید یہ واضح کرتی ہے کہ عورت کا تجربہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا؛ امیر عورت کے مسائل اور غریب عورت کے مسائل مختلف ہو سکتے ہیں۔ فصیح باری خان کے ڈراموں میں متوسط اور نچلے طبقے کی عورت زیادہ کربناک صورت میں سامنے آتی ہے کیونکہ اس کے پاس نہ معاشی سہارا ہوتا ہے نہ سماجی تحفظ۔ وہ گھر کے اندر بھی محکوم ہے اور باہر کی دنیا میں بھی کمزور۔ بعض ڈراموں میں عورت کو ملازمت، شادی، وراثت اور عزت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ مسائل اس کی زندگی کو مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں۔ اس طرح عورت کا کردار صرف جذباتی نہیں رہتا بلکہ معاشی حقیقت کے ساتھ جڑ کر زیادہ حقیقی اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

تانیثی مطالعے میں ایک اہم سوال عورت کے “جسم” (Body) اور “عزت” کے تصور سے متعلق ہے۔ پاکستانی سماج میں عورت کا جسم اکثر خاندان کی عزت کا مرکز بنا دیا جاتا ہے اور اسی کے گرد عورت کی آزادی محدود کر دی جاتی ہے۔ فصیح باری خان کے ڈراموں میں یہ مسئلہ کئی سطحوں پر سامنے آتا ہے: کبھی عورت پر شک، کبھی کردار کشی، کبھی زبردستی کی شادی، اور کبھی عورت کی مرضی کے خلاف فیصلے۔ تانیثی شعور کے مطابق یہ سب عورت کو ایک فرد کے بجائے ایک “علامت” بنا دیتے ہیں۔ فصیح باری خان بعض جگہ اس رویے کی شدت کو بے نقاب کرتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ عزت کے نام پر عورت کو کس طرح سزا دی جاتی ہے، جبکہ مرد کے کردار کو آسانی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ نقطہ ان کے ڈراموں کو عورت کے حق میں ایک مضبوط سماجی تنقید بناتا ہے۔

فصیح باری خان کے ڈراموں میں عورت کی نفسیات اور داخلی دنیا کی پیش کش بھی اہم ہے۔ تانیثی تنقید اس بات پر زور دیتی ہے کہ عورت کو صرف مظلوم دکھانا کافی نہیں بلکہ اس کی ذہنی کیفیت، خواہشات، خوف اور خواب بھی سامنے آنے چاہییں۔ فصیح باری خان کے ہاں عورت کے کردار اکثر ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ رشتوں کی ذمہ داریوں اور اپنی ذات کے درمیان پھنسے ہوتے ہیں۔ کبھی وہ ماں ہونے کے کردار میں قربانی دیتی ہیں، کبھی بیوی ہونے کے کردار میں خاموش رہتی ہیں، اور کبھی ایک آزاد فرد کے طور پر اپنی زندگی کا حق مانگتی ہیں۔ یہ داخلی کشمکش عورت کے کردار کو ایک جاندار انسان بناتی ہے، اور یہی تانیثی شعور کی بنیادی شرط ہے کہ عورت کو مکمل انسان کے طور پر دکھایا جائے۔

تاہم تانیثی مطالعے میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا فصیح باری خان کے ڈرامے عورت کو حقیقی معنوں میں خودمختار دکھاتے ہیں یا آخر میں اسے سماج کی روایتی اخلاقیات کے سامنے جھکا دیتے ہیں؟ بعض ڈراموں میں عورت کی بغاوت یا آزادی کی کوشش انجام کے لحاظ سے محدود ہو جاتی ہے، اور وہ یا تو قربانی کی علامت بن جاتی ہے یا پھر اسے کسی اخلاقی سزا کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ یہ پہلو پاکستانی ٹی وی ڈرامے کی مجموعی روایت سے بھی جڑا ہے، جہاں عورت کی آزادی کو اکثر “اخلاقی خطرہ” سمجھا جاتا ہے۔ فصیح باری خان کا کمال یہ ہے کہ وہ اس کشمکش کو بہت گہرائی سے دکھاتے ہیں، مگر بعض جگہ وہ بھی اسی سماجی دباؤ کے تحت عورت کو مکمل آزادی نہیں دے پاتے۔ اس کے باوجود ان کے ڈرامے عورت کے مسائل کو مرکز میں لا کر سماج کے طاقت کے نظام کو چیلنج ضرور کرتے ہیں۔

فصیح باری خان کے ڈراموں میں مرد کردار بھی تانیثی مطالعے کے لیے اہم ہیں، کیونکہ عورت کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے مردانہ رویوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے ہاں بعض مرد کردار روایتی اور جابر ہوتے ہیں، مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو عورت کو سمجھنے اور اس کے ساتھ برابری کا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تنوع اس بات کی علامت ہے کہ فصیح باری خان عورت اور مرد کے رشتے کو صرف ظلم و مظلومیت کے سادہ فارمولے میں نہیں رکھتے بلکہ انسانی نفسیات اور سماجی تربیت کے پیچیدہ عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تانیثی شعور کے مطابق مرد کردار کا بدلنا بھی عورت کی آزادی کے لیے ضروری ہے، کیونکہ عورت کی جدوجہد صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے سماج کی تبدیلی کی جدوجہد ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تانیثی شعور اور ڈرامے کے تناظر میں فصیح باری خان کے منتخب ٹی وی ڈراموں کا مطالعہ ہمیں پاکستانی سماج میں عورت کے مقام، اس کی جدوجہد اور اس کے مسائل کی ایک گہری تصویر فراہم کرتا ہے۔ ان کے ڈراموں میں عورت محض روتی ہوئی مظلوم نہیں بلکہ سوال کرنے والی، سوچنے والی اور اپنے وجود کی جنگ لڑنے والی شخصیت بن کر سامنے آتی ہے۔ طاقت کے نظام، طبقاتی دباؤ، عزت کے نام پر جبر، اور رشتوں کی سیاست کے خلاف عورت کی جدوجہد ان کے بیانیے کو سماجی تنقید میں بدل دیتی ہے۔ اگرچہ بعض جگہ ڈرامائی روایت اور سماجی اخلاقیات عورت کی مکمل خودمختاری کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں، مگر مجموعی طور پر فصیح باری خان کے ڈرامے عورت کے تجربے کو مرکز میں لا کر پاکستانی ڈرامے میں تانیثی شعور کے امکانات کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی ادبی اور فکری اہمیت ہے کہ وہ عورت کو صرف کردار نہیں بناتے بلکہ اسے ایک سوال، ایک حقیقت اور ایک زندہ انسانی تجربہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں