پروفیسر خلیل صدیقی اردو ادب اور لسانیات کے اُن اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جن کی علمی شناخت محض تدریس تک محدود نہیں رہی بلکہ تحقیق، تنقید، زبان دانی اور ادبی خدمات کے کئی پہلوؤں میں پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے اردو زبان کے لسانی مباحث کو نہ صرف علمی انداز میں سمجھنے کی کوشش کی بلکہ اسے اردو ادب کی روایت، تہذیبی پس منظر اور عصری تقاضوں کے ساتھ جوڑ کر ایک جامع زاویۂ نظر بھی فراہم کیا۔ پروفیسر خلیل صدیقی کی خدمات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اردو میں لسانی تحقیق کا میدان نسبتاً کم توجہ پاتا رہا ہے، جبکہ ادبی تنقید میں زیادہ تر جمالیاتی یا نظریاتی مباحث غالب رہے۔ ایسے ماحول میں خلیل صدیقی کا کام اردو زبان کی ساخت، قواعد، معنیات اور اسلوبیاتی پہلوؤں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ زبان کی تفہیم کے بغیر ادب کی تفہیم ادھوری رہتی ہے۔ ان کی ادبی و لسانی خدمات کا مطالعہ ہمیں اردو کے تحقیقی مزاج، زبان کے معیاری استعمال اور جدید لسانی شعور کے امکانات سے روشناس کراتا ہے۔
پروفیسر خلیل صدیقی کی ادبی خدمات میں سب سے نمایاں پہلو ان کی تنقیدی بصیرت ہے۔ انہوں نے ادب کو محض تخلیقی اظہار کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک تہذیبی اور فکری عمل سمجھا۔ ان کے نزدیک ادب کسی معاشرے کے اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتا ہے اور اس میں زبان، فکر اور سماجی حقیقتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ اسی لیے ان کی تنقید میں صرف ادبی حسن یا فنی ساخت کی بحث نہیں ملتی بلکہ زبان کی تہہ داری، لفظ کے معنوی امکانات اور اظہار کی لسانی جہتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ وہ متن کو پڑھتے وقت اس بات پر بھی توجہ دیتے ہیں کہ مصنف نے زبان کے کس نظام سے فائدہ اٹھایا، الفاظ کی ترتیب اور جملوں کی ساخت کیسے معنی پیدا کر رہی ہے، اور اسلوب کس طرح قاری کے ذہن میں تاثر قائم کرتا ہے۔ یہ طرزِ مطالعہ اردو تنقید میں ایک سنجیدہ اور علمی اضافہ سمجھا جا سکتا ہے۔
لسانی خدمات کے حوالے سے پروفیسر خلیل صدیقی کا بنیادی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے قواعدی اور ساختی مسائل کو جدید لسانی شعور کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ اردو میں عام طور پر قواعد کو محض “درست اور غلط” کے پیمانے پر دیکھا جاتا ہے، مگر جدید لسانیات یہ بتاتی ہے کہ زبان کے اندر تبدیلی، ارتقا اور علاقائی فرق بھی فطری حقیقتیں ہیں۔ خلیل صدیقی نے زبان کے ان پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے اردو کے معیار اور رواج کے درمیان ایک متوازن نقطۂ نظر اختیار کیا۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ زبان کا معیار ضروری ہے، کیونکہ اسی سے علمی اور ادبی روایت محفوظ رہتی ہے، مگر زبان کو جامد بنا دینا بھی درست نہیں، کیونکہ زبان زندگی کے ساتھ بدلتی ہے۔ اسی لیے ان کے ہاں زبان کے معیاری استعمال کے ساتھ ساتھ زبان کی فطری تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش بھی ملتی ہے۔
پروفیسر خلیل صدیقی کی ایک بڑی خدمت اردو میں معنیات (Semantics) اور اسلوبیات (Stylistics) کے مباحث کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اردو میں اکثر تنقیدی مطالعہ معنی کو صرف “مضمون” یا “پیغام” کے طور پر دیکھتا ہے، مگر معنیات یہ بتاتی ہے کہ معنی لفظ کے اندر نہیں بلکہ سیاق، جملے کی ساخت اور قاری کے فہم میں بنتا ہے۔ خلیل صدیقی نے اس پہلو کو واضح کیا کہ ادب میں معنی کی تشکیل زبان کے نظام سے جڑی ہے۔ ایک ہی لفظ مختلف سیاق میں مختلف معنی دے سکتا ہے، اور یہی ادب کی جمالیاتی قوت ہے۔ اسلوبیات کے حوالے سے بھی انہوں نے یہ دکھایا کہ شاعر یا ادیب کا اسلوب صرف خوبصورت زبان نہیں بلکہ ایک مخصوص لسانی انتخاب ہے جو متن کو منفرد بناتا ہے۔ اس طرح ان کی تحقیق اردو ادب کے مطالعے کو زیادہ سائنسی اور تجزیاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اردو املا، تلفظ اور معیاری زبان کے مسائل بھی ان کی توجہ کے اہم موضوعات میں شامل رہے ہیں۔ اردو میں املا کی بے قاعدگیاں، تلفظ کے اختلافات اور رسم الخط کے مسائل ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ خلیل صدیقی نے ان مسائل کو محض شکایت کے انداز میں نہیں بلکہ ایک تحقیقی مسئلے کے طور پر دیکھا۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زبان کی تدریس اور تحریر میں املا کی درستگی بنیادی شرط ہے، کیونکہ غلط املا نہ صرف معنی کو متاثر کرتا ہے بلکہ زبان کے معیار کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح تلفظ کے اختلافات کے حوالے سے انہوں نے یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ اردو کا معیار قائم رکھنے کے لیے ایک عمومی معیاری تلفظ ضروری ہے، مگر علاقائی لہجوں کی حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ متوازن رویہ ان کی لسانی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔
پروفیسر خلیل صدیقی کی خدمات میں تدریس کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی تعلیم کے ذریعے کئی نسلوں کو علمی تربیت دی۔ ایک استاد کی اصل خدمت صرف کتاب لکھنا نہیں بلکہ ذہن بنانا بھی ہے، اور خلیل صدیقی نے اپنی تدریسی زندگی میں اردو کے طلبہ کو تحقیق، تنقید اور زبان کے سائنسی مطالعے کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے طلبہ کو یہ شعور دیا کہ اردو محض جذباتی یا روایتی زبان نہیں بلکہ ایک منظم لسانی نظام ہے جسے سمجھنے کے لیے علمی محنت ضروری ہے۔ ان کی تدریسی خدمات کے نتیجے میں بہت سے طلبہ تحقیق کے میدان میں آئے اور اردو زبان کے مسائل کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے لگے۔
ان کی ادبی خدمات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اردو ادب کو عصری تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ جدید دنیا میں زبان اور ادب کے مسائل بدل رہے ہیں: سوشل میڈیا، رومن اردو، انگریزی آمیزش، اور ڈیجیٹل کلچر نے اردو کے سامنے نئے چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔ خلیل صدیقی نے ان مسائل کو محض “زوال” کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں زبان کے ارتقا کے ایک نئے مرحلے کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ زبان میں تبدیلی فطری ہے، مگر ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اردو کی شناخت اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے شعوری کوشش ضروری ہے۔ یہ فکر ان کی علمی ذمہ داری اور زبان دوستی کی علامت ہے۔
مجموعی طور پر پروفیسر خلیل صدیقی کی ادبی و لسانی خدمات اردو تحقیق و تنقید میں ایک اہم اضافہ ہیں۔ انہوں نے ادب کو زبان کے نظام سے جوڑ کر دیکھا، لسانی شعور کو اردو کے ادبی مطالعے میں شامل کیا، اور معیاری زبان کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو کی۔ ان کی خدمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اردو ادب کی ترقی کے لیے صرف تخلیق کافی نہیں بلکہ زبان کی علمی تفہیم، قواعدی شعور اور تحقیقی مزاج بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر خلیل صدیقی کا کام اردو کے ان محققین میں شمار کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اردو زبان و ادب کے مطالعے کو زیادہ منظم، زیادہ علمی اور زیادہ عصری بنانے کی کوشش کی۔ ان کی کاوشیں اردو کے لیے ایک فکری سرمایہ ہیں اور اردو تحقیق و تنقید کے میدان میں ان کی حیثیت ایک سنجیدہ اور معتبر اہلِ علم کی ہے۔



