کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

تہذیبی مکالمہ اور بین الثقافتی ہم آہنگی،اردو میں چینی ادبی تراجم کا تنقیدی جائزہ

اردو میں چینی ادبی تراجم کا موضوع محض لسانی یا فنی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی مکالمے اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے ایک بڑے منصوبے سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ ترجمہ صرف لفظوں کی منتقلی نہیں بلکہ تہذیبوں کے درمیان “معنی” کی نقل و حرکت، فکری روایتوں کی ملاقات اور انسانی تجربے کی مشترکہ قدروں کی بازیافت کا عمل ہے۔ چین اور برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں قدیم زمانے سے روابط کی جھلکیں موجود رہی ہیں، مگر جدید دور میں ادبی تراجم نے اس ربط کو ایک نئی فکری اور جمالیاتی سطح پر استوار کیا۔ اردو میں چینی ادب کے تراجم کے ذریعے قاری کو چینی معاشرے کی داخلی ساخت، اس کے تاریخی تجربات، فلسفیانہ تصورات، اجتماعی اقدار اور انسانی احساسات کے ان رنگوں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے جو براہِ راست ہمارے معاشرے میں کم نظر آتے ہیں، لیکن اپنے جوہر میں انسانی سطح پر مشترک ہوتے ہیں۔ یہی مشترک انسانی بنیاد اردو اور چینی تہذیب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، تاہم یہ ہم آہنگی خود بخود نہیں ہوتی بلکہ ترجمے کے انتخاب، اسلوب، ثقافتی تناظر اور مترجم کے فکری رویے کے ذریعے تشکیل پاتی ہے، اس لیے اردو میں چینی ادبی تراجم کا تنقیدی جائزہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ یہ تراجم کس حد تک تہذیبی مکالمے کو حقیقی معنوں میں ممکن بناتے ہیں اور کہاں وہ سطحی تاثر یا غلط فہمی پیدا کر دیتے ہیں۔

اردو میں چینی ادب کے تراجم کی روایت بیسویں صدی میں زیادہ واضح شکل اختیار کرتی ہے، جب عالمی سطح پر نوآبادیاتی تجربات، انقلابات، قومی تحریکیں اور ترقی پسند فکر کے اثرات نمایاں ہوئے۔ برصغیر میں ترقی پسند تحریک نے جس طرح روسی ادب، فرانسیسی حقیقت نگاری اور عالمی انقلابی ادب کو اردو میں متعارف کروایا، اسی طرح چینی ادب بھی ایک ایسے ادب کے طور پر سامنے آیا جس میں سامراجی جبر، جاگیردارانہ ظلم، طبقاتی کشمکش اور قومی آزادی کے موضوعات موجود تھے۔ یہی اشتراک اردو قاری کے لیے چینی ادب کو قابلِ قبول اور مانوس بناتا گیا۔ چنانچہ لو شون، با جِن، لاؤ شے اور دیگر چینی ادیبوں کے تراجم اردو میں آئے اور ان کے ذریعے اردو قارئین نے ایک ایسے معاشرے کو دیکھا جو اپنی ساخت میں مختلف ہونے کے باوجود انسانی دکھ، سماجی ناہمواری اور آزادی کی جدوجہد میں ہمارے تجربے سے ملتا جلتا تھا۔ یہاں تہذیبی مکالمہ اس سطح پر پیدا ہوا کہ قاری نے “دوسرے” کو محض اجنبی نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنے مسائل کی ایک اور صورت کے طور پر پڑھا۔ تاہم تنقیدی طور پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اردو میں چینی ادب کے تراجم صرف ترقی پسند فکر کے زیرِ اثر منتخب کیے گئے، اور اگر ایسا ہے تو کیا اس انتخاب نے چینی ادب کی جمالیاتی اور فکری تنوع کو محدود کر دیا؟ کیونکہ چینی ادب میں صرف سیاسی مزاحمت یا طبقاتی جدوجہد نہیں بلکہ قدیم فلسفہ، روحانی روایتیں، کلاسیکی شاعری، جدید شہری زندگی، نسائی تجربہ، داخلی نفسیات اور مابعد جدید حسیت بھی شامل ہے، جس کا اردو میں تعارف نسبتاً کم ہوا۔

ترجمہ جب تہذیبی مکالمے کا وسیلہ بنتا ہے تو اس میں زبان کے ساتھ ساتھ ثقافت بھی منتقل ہوتی ہے، اور یہی مرحلہ سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ چینی زبان اپنی ساخت، محاورات، علامتوں اور تہذیبی اشاروں میں اردو سے بہت مختلف ہے۔ چینی ادب میں کنفیوشس ازم، تاؤ ازم اور بدھ مت کے اثرات، خاندان کی مرکزیت، اجتماعی نظم، ریاستی شعور، تاریخی تسلسل اور علامتی اظہار کے ایسے پہلو ملتے ہیں جو اردو قاری کے لیے فوری طور پر قابلِ فہم نہیں ہوتے۔ مترجم کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اس اجنبیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی معنی کی ترسیل ممکن بنائے۔ اگر مترجم چینی تہذیب کی علامتوں کو اردو کے مانوس استعاروں میں مکمل طور پر بدل دے تو قاری کو بظاہر آسانی تو ہو جاتی ہے، مگر اصل تہذیبی رنگ ماند پڑ جاتا ہے اور مکالمہ “ہم جیسا” بنانے کے عمل میں گم ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر مترجم لفظی ترجمہ کرے اور ثقافتی اشاروں کو وضاحت کے بغیر منتقل کر دے تو متن اردو میں بے جان، ثقیل اور غیر مربوط محسوس ہوتا ہے، نتیجتاً قاری کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے اور مکالمہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے بہترین تراجم وہ ہیں جو “فہم” اور “اجنبیت” کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں: یعنی متن کو اردو میں رواں بھی بناتے ہیں اور چینی تہذیب کی انفرادیت بھی برقرار رکھتے ہیں۔

اردو میں چینی ادبی تراجم کے تنقیدی جائزے میں ایک اہم مسئلہ “واسطہ زبان” کا بھی ہے۔ کئی تراجم براہِ راست چینی سے نہیں بلکہ انگریزی یا روسی ترجموں کے ذریعے اردو میں منتقل ہوئے۔ اس عمل میں معنی کے ضائع ہونے، لہجے کے بدلنے اور تہذیبی رمزوں کے کمزور ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ پہلے ہی معنی کے انتخاب کا عمل ہے، اور جب ترجمہ ترجمہ بن جائے تو معنی کئی بار فلٹر ہو کر اصل متن سے دور ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چینی ادب کی سادگی، اس کی داخلی خاموشی، مختصر جملوں کی معنویت اور بعض اوقات علامتی اشاریت، واسطہ زبان کے ذریعے آتے ہوئے یا تو ضرورت سے زیادہ بیانیہ بن جاتی ہے یا پھر جذباتی رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے تنقیدی طور پر یہ مطالبہ سامنے آتا ہے کہ اردو میں چینی ادب کے تراجم براہِ راست چینی زبان سے کیے جائیں اور مترجم کو دونوں تہذیبوں کے فکری نظام سے واقفیت ہو، تاکہ مکالمہ محض معلوماتی نہ رہے بلکہ حقیقی معنوی سطح پر قائم ہو سکے۔

چینی ادبی تراجم کے حوالے سے ایک اور اہم تنقیدی پہلو یہ ہے کہ اردو میں اکثر تراجم “پیغام” کو ترجیح دیتے ہیں اور “اسلوب” ثانوی ہو جاتا ہے۔ چینی افسانہ اور ناول اپنی مخصوص فضا سازی، کرداروں کی خاموش داخلی کیفیت، اور جزئیات کے ذریعے معنی پیدا کرنے کی تکنیک کے لیے مشہور ہے۔ اگر مترجم صرف پلاٹ اور واقعات منتقل کرے اور زبان کی وہ کیفیت نہ لا سکے جو اصل متن کا حسن ہے تو ترجمہ محض خلاصہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح چینی شاعری کے تراجم میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے، کیونکہ چینی کلاسیکی شاعری میں اختصار، صوتی آہنگ، تصویریت اور معنوی تہ داری بنیادی عناصر ہیں۔ اردو میں اگر اسے صرف “مفہوم” میں ڈھال دیا جائے تو شاعری کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔ تنقیدی طور پر بہتر طریقہ یہ ہے کہ شاعر مترجم یا ادبی ذوق رکھنے والا مترجم متن کی شعری کیفیت کو اردو کے ممکنہ وسائل کے ذریعے قائم رکھنے کی کوشش کرے، اور جہاں مکمل متبادل ممکن نہ ہو وہاں حاشیے یا وضاحت کے ذریعے قاری کو اصل فضا سے قریب لایا جائے۔

تہذیبی مکالمہ صرف متن کی منتقلی نہیں بلکہ ذہنوں کے زاویوں کی تبدیلی بھی ہے۔ اردو میں چینی ادبی تراجم نے ایک سطح پر پاکستانی/اردو قاری کو یہ احساس دلایا کہ انسانی مسائل جغرافیہ کے پابند نہیں، غربت، طبقاتی فرق، جبر، ہجرت، محنت کش کی زندگی اور اخلاقی کشمکش ہر تہذیب میں کسی نہ کسی صورت موجود ہیں۔ اس سے بین الثقافتی ہم آہنگی کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے، کیونکہ قاری دوسرے معاشرے کو “دشمن” یا “اجنبی” کے بجائے “انسانی تجربے کا شریک” سمجھنے لگتا ہے۔ مگر دوسری طرف اگر تراجم کے انتخاب میں یک رخا پن ہو، یعنی صرف وہی ادب اردو میں آئے جو سیاسی یا نظریاتی طور پر ہمارے مزاج سے مطابقت رکھتا ہو، تو مکالمہ محدود ہو جاتا ہے اور ہم چینی تہذیب کو مکمل طور پر سمجھنے کے بجائے صرف اپنی پسند کے آئینے میں دیکھتے رہتے ہیں۔ اس لیے تنقیدی جائزے کا تقاضا یہ ہے کہ اردو میں چینی ادب کے تراجم کا دائرہ وسیع ہو: کلاسیکی ادب، جدید شہری ادب، نسائی ادب، بچوں کا ادب، ڈراما، مزاح، فلسفیانہ نثر اور مابعد جدید تحریریں بھی اردو میں منتقل ہوں تاکہ تہذیبی مکالمہ متوازن اور جامع بن سکے۔

مزید یہ کہ ترجمے کا ادارہ جاتی پہلو بھی اہم ہے۔ اگر تراجم صرف انفرادی کوششوں تک محدود رہیں تو معیار میں تفاوت پیدا ہوتا ہے اور تسلسل قائم نہیں رہتا۔ بین الثقافتی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ ادبی ادارے، جامعات اور ثقافتی مراکز مشترکہ منصوبوں کے تحت تراجم کی سرپرستی کریں، مترجمین کی تربیت ہو، چینی زبان کی تدریس کو فروغ ملے اور اردو میں شائع ہونے والے تراجم پر تنقیدی مکالمہ بھی پیدا ہو۔ اس تنقیدی مکالمے کے بغیر ترجمہ ایک “خاموش سرگرمی” بن جاتا ہے، جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ ترجمہ پڑھا جائے، اس پر گفتگو ہو، اس کے معیار کو جانچا جائے اور اس کے ذریعے دونوں تہذیبوں کے درمیان علمی اور ادبی رشتہ مضبوط کیا جائے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اردو میں چینی ادبی تراجم تہذیبی مکالمے اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار صرف تعداد پر نہیں بلکہ معیار، انتخاب، براہِ راست ترجمے، اسلوب کی حفاظت اور ثقافتی شعور پر ہے۔ جب مترجم چینی ادب کی روح کو اردو کے قالب میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ترجمہ دو قوموں کے درمیان محض ادبی رشتہ نہیں بناتا بلکہ ایک ایسی فکری پل تعمیر کرتا ہے جس پر چل کر قاری دوسرے معاشرے کو سمجھتا ہے، اپنی سوچ کو وسیع کرتا ہے اور انسانیت کے مشترک اقدار تک پہنچتا ہے۔ یہی تہذیبی مکالمہ ہے اور یہی بین الثقافتی ہم آہنگی کی اصل بنیاد، کہ زبانیں بدل جائیں مگر انسان کے دکھ، خواب، جدوجہد اور امید کی سچائی برقرار رہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں