کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

پاکستانی اردو مرثیہ، مزاحمتی عناصر کا تجزیاتی مطالعہ(منتخب مرثیہ نگاروں کے حوالے سے)

پاکستانی اردو ادب میں مرثیہ ایک ایسی صنف ہے جس نے مذہبی روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی انسانی تاریخ، اجتماعی شعور اور اخلاقی اقدار کے بڑے سوالات کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ مرثیہ بظاہر غم، سوگ اور شہادت کے بیان کا نام ہے، مگر اس کی تہہ میں ایک گہرا فکری نظام موجود ہے جو ظلم کے مقابلے میں حق کی حمایت، جبر کے خلاف مزاحمت اور انسانی وقار کی بازیافت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ واقعۂ کربلا چونکہ اپنی اصل میں محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی موقف ہے، اس لیے مرثیہ خود بخود ایک مزاحمتی صنف بن جاتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب سماجی اور سیاسی سطح پر نئی کشمکشیں پیدا ہوئیں، ریاستی و معاشرتی بحران سامنے آئے، طبقاتی تفریق، معاشی ناانصافی اور فکری انتشار نے معاشرے کو متاثر کیا تو مرثیہ نگاروں نے کربلا کے استعارے کو اپنے عہد کے حالات سے جوڑ کر مرثیے میں مزاحمت کے عناصر کو مزید واضح اور بامعنی بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی اردو مرثیہ صرف روایت کی پاسداری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے انسانی آزادی، حق گوئی اور ظلم کے خلاف احتجاج کو اپنی فکری سمت کے طور پر اپنایا۔

مزاحمت کا تصور ادب میں صرف سیاسی یا عسکری ردِعمل نہیں بلکہ ایک وسیع معنوی دائرہ رکھتا ہے۔ مزاحمت سے مراد وہ فکری، اخلاقی اور تخلیقی رویہ ہے جو انسان کو جبر کے خلاف کھڑا ہونے، ناانصافی کو رد کرنے، استحصال کے نظام کو بے نقاب کرنے اور سچائی کی حمایت میں آواز بلند کرنے کی قوت عطا کرے۔ مرثیہ چونکہ کربلا کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے اور کربلا اپنی حقیقت میں حق و باطل کی ابدی کشمکش کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے مرثیہ نگار جب امام حسینؑ کے کردار کو بیان کرتا ہے تو وہ دراصل ایک ایسے اصولی انسان کی تصویر سامنے لاتا ہے جو طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ اسی طرح یزید کا کردار محض ایک تاریخی فرد نہیں رہتا بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت بن جاتا ہے جو ظلم، جبر، فریب اور طاقت کے غلط استعمال سے عبارت ہے۔ پاکستانی مرثیہ نگاروں نے اسی علامتی ساخت کو اپنے معاشرے کے تناظر میں استعمال کیا اور مرثیہ کو صرف جذباتی گریہ کا وسیلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری احتجاج اور اخلاقی بیداری کی زبان بنا دیا۔

پاکستانی مرثیہ میں مزاحمتی عناصر کی ایک نمایاں صورت یہ ہے کہ اس میں حق و باطل کی کشمکش کو محض ماضی کا واقعہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ہر زمانے کی حقیقت قرار دیا جاتا ہے۔ مرثیہ نگار اس بات پر زور دیتا ہے کہ ظلم اور جبر ہر دور میں نئی صورتیں اختیار کرتے ہیں، لہٰذا کربلا کا پیغام بھی ہر دور کے انسان کے لیے زندہ اور متحرک رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرثیہ صرف ایک مذہبی بیانیہ نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا اخلاقی منشور بن جاتا ہے جو فرد کو اپنی ذات کے اندر بھی یزیدیت اور حسینیت کے امکانات پہچاننے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی مزاحمت کی وہ فکری سطح ہے جہاں مرثیہ قاری یا سامع کے اندر سوال پیدا کرتا ہے کہ وہ کس طرف کھڑا ہے: طاقت کے ساتھ یا سچائی کے ساتھ، مصلحت کے ساتھ یا اصول کے ساتھ، خاموشی کے ساتھ یا احتجاج کے ساتھ۔

پاکستانی معاشرتی حالات میں مرثیہ کی مزاحمتی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں سیاسی عدم استحکام، آمریتوں کے تجربات، اظہارِ رائے پر پابندیاں، معاشی ناہمواری اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے مختلف ادوار میں عوامی زندگی کو متاثر کیا۔ ایسے حالات میں مرثیہ نگار جب کربلا کا ذکر کرتا ہے تو وہ صرف ماضی کی تصویر کشی نہیں کرتا بلکہ اپنے عہد کی سچائیوں کو بھی علامتی انداز میں بیان کرتا ہے۔ یزیدی کردار کبھی استبدادی طاقت کے روپ میں سامنے آتا ہے، کبھی طبقاتی ظلم کے نظام میں، کبھی مذہبی انتہا پسندی میں اور کبھی انسانی حقوق کی پامالی میں۔ اس کے مقابلے میں حسینی کردار ایک ایسے مزاحم انسان کی علامت بن جاتا ہے جو کمزور ہوتے ہوئے بھی حق کا علم بلند رکھتا ہے اور طاقت کے غلط استعمال کو قبول نہیں کرتا۔ اس طرح پاکستانی مرثیہ میں مزاحمت ایک داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر نمایاں ہوتی ہے: داخلی سطح پر یہ ضمیر کی بیداری ہے اور خارجی سطح پر یہ ظلم کے خلاف اجتماعی شعور کی تعمیر ہے۔

پاکستانی مرثیہ نگاروں میں جوش ملیح آبادی کا نام مزاحمتی حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جوش کی شاعری میں خطیبانہ آہنگ، انقلابی حرارت اور احتجاجی لہجہ بنیادی عناصر کے طور پر موجود ہیں۔ اگرچہ جوش کو زیادہ تر نظم اور ملی شاعری کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، مگر کربلا اور حسینی استعارہ ان کے فکری نظام میں ایک طاقتور علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جوش کے یہاں مرثیہ یا مرثیہ نما شاعری میں محض غم کی کیفیت نہیں بلکہ ایک بیدار کرنے والا شعور ملتا ہے۔ وہ کربلا کو مظلومیت کی داستان سے بڑھ کر ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے لہجے میں جو شدت ہے وہ سامع کے اندر صرف رقت نہیں پیدا کرتی بلکہ اس کے اندر ایک سوال بھی اٹھاتی ہے کہ اگر حق کے لیے قربانی دی جا سکتی ہے تو پھر ظلم کے سامنے خاموشی کیوں اختیار کی جائے۔ جوش کے ہاں حسینؑ ایک فرد نہیں بلکہ ایک آفاقی اصول ہیں اور یزید ایک فرد نہیں بلکہ جبر کی مسلسل چلنے والی روایت ہے۔ یہی انداز مرثیے کو زمان و مکان سے نکال کر ایک زندہ اور فعال تجربہ بنا دیتا ہے۔

علامہ طالب جوہری کا مرثیہ مزاحمت کے ایک مختلف زاویے کو سامنے لاتا ہے۔ ان کے ہاں مزاحمت صرف جذباتی یا خطیبانہ کیفیت نہیں بلکہ فکری گہرائی اور اخلاقی بصیرت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ طالب جوہری نے کربلا کے واقعے کو محض رونے کی روایت نہیں بنایا بلکہ اسے سمجھنے، سوچنے اور زندگی میں برتنے کا پیغام دیا۔ ان کے مرثیوں میں یہ بات نمایاں ہے کہ وہ ظلم کے خلاف مزاحمت کو محض جنگی عمل نہیں سمجھتے بلکہ اسے کردار، یقین، علم، صبر اور اصول پسندی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کے ہاں حسینی کردار انسانی ضمیر کی علامت ہے اور یہی ضمیر مزاحمت کا اصل سرچشمہ ہے۔ طالب جوہری کے مرثیے سامع کو یہ شعور دیتے ہیں کہ کربلا کا پیغام صرف امام حسینؑ کی شہادت کا بیان نہیں بلکہ ایک اخلاقی اعلان ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی ظلم کا حصہ بن جانا ہے۔ یہ فکر پاکستانی معاشرے میں خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے جہاں بعض اوقات خوف، مصلحت اور مفاد انسان کو سچائی سے دور کر دیتے ہیں۔

محسن نقوی کی شاعری میں بھی حسینی استعارہ اور مرثیہ نما آہنگ مزاحمت کے جدید رنگ کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ محسن نقوی کے ہاں کربلا محض ایک روایت نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی جبر کو محسوس کیا اور اس کے خلاف اپنی شاعری میں احتجاجی لہجہ پیدا کیا۔ ان کے ہاں شہادت اور قربانی کا تصور محض مذہبی عقیدت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا شعور بن جاتا ہے جو انسان کو حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ محسن نقوی کی شاعری میں کربلا کے حوالے سامع کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ حسینؑ کا راستہ صرف تاریخ میں نہیں بلکہ آج کے انسان کے لیے بھی ایک راستہ ہے۔ ان کے یہاں مزاحمت ایک جذباتی کیفیت بھی ہے اور ایک فکری اعلان بھی کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا زندگی نہیں بلکہ شکست ہے، اور حق کے لیے قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے۔

پاکستانی مرثیہ کی روایت میں شہنشاہ نقوی اور دیگر معروف مرثیہ نگاروں نے بھی مرثیے کے کلاسیکی سانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں عصری معنویت پیدا کی۔ مرثیے کی فنی ساخت میں منظر نگاری، کردار نگاری، مکالماتی کیفیت اور جذباتی بہاؤ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر پاکستانی مرثیہ نگاروں نے ان فنی عناصر کو استعمال کر کے مرثیے کے پیغام کو عوامی سطح پر زیادہ موثر بنایا۔ ان کے ہاں کربلا کے واقعات بیان ہوتے ہوئے بھی ایک پس منظر میں یہ احساس موجود رہتا ہے کہ ظلم صرف ماضی کا مسئلہ نہیں بلکہ آج بھی مختلف صورتوں میں موجود ہے۔ چنانچہ مرثیہ نگار جب پیاس، قید، بے کسی، مظلومیت اور شہادت کے مناظر پیش کرتا ہے تو وہ دراصل انسان کو یہ بتاتا ہے کہ ظلم کے خلاف مزاحمت صرف تلوار سے نہیں بلکہ اپنے موقف، کردار اور سچائی سے بھی کی جاتی ہے۔ اسی طرح مرثیے میں خواتین کے کردار، خصوصاً حضرت زینبؑ کا کردار، مزاحمت کے ایک اور اہم پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ حق کی حفاظت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ خطبے، دلیل اور شعور کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔ یہ پہلو پاکستانی مرثیہ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں معاشرتی سطح پر عورت کی آواز اور اس کی جدوجہد کو کئی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے، لہٰذا زینبی کردار ایک فکری علامت کے طور پر سامنے آتا ہے جو حق گوئی اور جراتِ اظہار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

پاکستانی اردو مرثیہ میں مزاحمتی عناصر کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ محض غم کی شدت پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ غم کو شعور میں بدل دیتا ہے۔ مرثیہ سامع کو رلاتا ضرور ہے مگر ساتھ ہی اسے جگاتا بھی ہے۔ وہ اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ کربلا کا غم صرف آنسو نہیں مانگتا بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی مانگتا ہے۔ یہ ذمہ داری یہ ہے کہ انسان ظلم کے خلاف کھڑا ہو، ناانصافی کو رد کرے، مظلوم کا ساتھ دے اور سچائی کی گواہی دے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مرثیہ ایک مذہبی اور تہذیبی روایت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی اور اخلاقی تحریک بھی بن جاتا ہے۔ یہ تحریک انسان کے اندر خوف کے مقابلے میں حوصلہ، مفاد کے مقابلے میں اصول اور خاموشی کے مقابلے میں حق گوئی کی قوت پیدا کرتی ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی اردو مرثیہ اپنی ساخت، موضوعات اور علامتی نظام کے اعتبار سے ایک بھرپور مزاحمتی ادب ہے۔ اس میں کربلا کے استعارے کے ذریعے ہر دور کی یزیدیت کو بے نقاب کیا جاتا ہے اور ہر دور کی حسینیت کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ جوش ملیح آبادی کے انقلابی لہجے، طالب جوہری کی فکری گہرائی، محسن نقوی کی عصری حسیت اور دیگر مرثیہ نگاروں کی روایتی مگر موثر پیشکش نے پاکستانی مرثیہ کو محض مذہبی بیان نہیں رہنے دیا بلکہ اسے انسانی آزادی اور اخلاقی بیداری کی ایک طاقتور آواز بنا دیا۔ مرثیہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم کے سامنے جھکنا تاریخ کا حصہ بننا نہیں بلکہ تاریخ کے ہاتھوں مٹ جانا ہے، اور حق کے لیے کھڑا ہونا ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو زندہ اور باوقار بناتا ہے۔ اسی لیے مرثیہ آج بھی پاکستان میں صرف ایک صنفِ سخن نہیں بلکہ ضمیر کی عدالت، سچائی کی گواہی اور مزاحمت کی علامت ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں