پروفیسر سید مجاہد سجاد گورنمنٹ گریجویٹ کالج بریوالہ (پنجاب) میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، لیکن اردو ادب، خاص طور پر شاعری اور تنقید کی دنیا میں ان کا کام نمایاں ہے۔”چشمِ بینا” میں انہوں نے اردو ادب کے مختلف پہلوؤں، معاصر شعری و ادبی رجحانات اور فلسفیانہ موضوعات کو گہرے تنقیدی زاویے سے پرکھا ہے۔ کتاب کا عنوان (چشمِ بینا – یعنی دیکھنے والی یا بصیرت رکھنے والی آنکھ) خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس میں معاشرتی اور ادبی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ان کا اندازِ تحریر سنجیدہ، فکری اور دلی فہم کے قریب ہے، جو قاری کو عام سطحی مطالعے سے ہٹ کر گہرائی میں سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔”چشمِ بینا” پروفیسر سید مجاہد سجاد کی ایک گراں قدر تصنیف ہے جو اردو ادب میں فکری، علمی اور تنقیدی مضامین کا ایک اہم مجموعہ مانی جاتی ہے۔ فارسی اور اردو میں اس عنوان کا مطلب بصیرت والی آنکھ ہے، جو قاری کو کائنات اور معاشرے کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کتاب ادبی تنقید، ثقافتی مسائل اور فکری موضوعات پرمشتمل ہے، جس میں مصنف کا متانت اور تحقیق پر مبنی اسلوب نظر آتا ہے
چشم بینا” کا تجزیاتی مطالعہ”



