کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

پرتوروہیلہ حیات اور ادبی خدمات

پرتو روہیلہ کا اصل نام مختار علی خان تھا۔ وہ 23 ستمبر 1923ء کو بریلی، روہیل کھنڈ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی ذوق رکھنے والے پٹھان گھرانے سے تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1950ء میں ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا اور بنوں میں سکونت اختیار کی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج پشاور، لا کالج پشاور اور پشاور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1957ء میں پاکستان ٹیکسیشن سروس سے وابستہ ہوئے اور مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد 1993ء میں ریٹائر ہوئے۔ سرکاری مصروفیات کے باوجود ان کا ادبی ذوق برقرار رہا اور انھوں نے شاعری، تحقیق، تنقید اور ترجمے کے میدان میں اپنی تخلیقی و علمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ان کی شخصیت میں مشرقی تہذیب، فارسی و اردو ادب سے گہری وابستگی اور علمی جستجو نمایاں تھی۔

پرتو روہیلہ کی ادبی خدمات کا نمایاں پہلو ان کی شاعری ہے۔ انھوں نے غزل، نظم اور دوہے میں طبع آزمائی کی۔ ان کی شاعری میں محبت، ہجر، انسانی رشتوں، زندگی کے تجربات اور تہذیبی شعور کی عکاسی ملتی ہے۔ خصوصاً دوہا نگاری میں انھوں نے برصغیر کی قدیم شعری روایت سے استفادہ کیا اور اسے اپنے تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کے شعری مجموعوں میں نوائے شب، آواز، ایک دیا دریچے میں، دامِ خیال، شکستِ رنگ، سفر دائروں کا اور رین اجیارا قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے دوہوں میں سادگی، معنویت اور عوامی زبان کا حسن نمایاں ہے۔ وہ مختصر شعری پیرائے میں انسانی تجربات اور جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت اور جدید احساس کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

پرتو روہیلہ کی علمی و ادبی خدمات میں تحقیق اور ترجمے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انھوں نے مرزا غالب کے فارسی مکتوبات کا اردو ترجمہ کیا اور غالب شناسی کے حوالے سے اہم تحقیقی کام انجام دیا۔ ان کی تصانیف میں غالب اور غمگین کے فارسی مکتوبات، نامہ ہائے فارسیِ غالب، غالب کے منتخب فارسی مکتوبات اور مشکلاتِ غالب خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ فارسی زبان و ادب پر ان کی دسترس نے انھیں غالب کے فکری اور ادبی سرمائے کو اردو قارئین تک منتقل کرنے کے قابل بنایا۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں 1994ء میں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی اور 2008ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ پرتو روہیلہ 29 ستمبر 2016ء کو اسلام آباد میں وفات پا گئے۔ ان کی ادبی زندگی اردو شاعری، دوہا نگاری، غالب شناسی اور فارسی ادب کے تراجم کے حوالے سے اہم مقام رکھتی ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں