پاکستانی اردو ناول میں مظلوم طبقوں کی عکاسی ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے، جو سماجی ناانصافی، طبقاتی تقسیم اور انسانی حقوق کی پامالی کو نمایاں کرتی ہے۔ ان ناولوں میں عام طور پر مزدوروں، کسانوں، خواتین، اور دیگر پسماندہ طبقوں کے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، جنہیں استحصال، غربت، اور جبر کا سامنا ہوتا ہے۔ عبد اللہ حسین کا “اداس نسلیں” اور قدرت اللہ شہاب کا “ماں جی” جیسے ناول ان طبقوں کے دکھ، جدوجہد، اور حالات کی حقیقت پسندانہ منظرکشی کرتے ہیں۔ عصمت چغتائی اور بانو قدسیہ جیسے مصنفین نے خواتین کے حقوق اور ان کے استحصال کو اپنی کہانیوں کا مرکز بنایا، جب کہ انتظار حسین نے ہجرت اور اس کے نتیجے میں متاثر ہونے والے طبقوں کے مسائل کو بیان کیا۔ ان ناولوں میں کرداروں کی جدوجہد، ان کے خواب اور ان کی محرومیاں نہایت گہرائی سے پیش کی جاتی ہیں، جو سماجی شعور کو بیدار کرنے اور اصلاح کی جانب قدم بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔