غلام عباس اردو افسانے کے اُن عظیم فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب، گہری سماجی بصیرت اور حقیقت پسندانہ کردار نگاری کے ذریعے اردو افسانے کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کے افسانوں میں کردار محض کہانی کے اجزا نہیں ہوتے بلکہ اپنے عہد، سماج اور انسانی نفسیات کے نمائندہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ غلام عباس کے نمائندہ افسانوں کا کرداری مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ وہ انسانی کرداروں کی پیچیدگیوں، کمزوریوں اور نفسیاتی محرکات کو نہایت باریک بینی سے پیش کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔
غلام عباس کے کردار عام زندگی سے اخذ کیے گئے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں روزمرہ زندگی کے انسانوں کو پیش کرتے ہیں جن کے مسائل، خواہشات اور رویے حقیقت کے قریب محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے کرداروں میں مصنوعیت یا رومانوی مبالغہ نہیں پایا جاتا بلکہ وہ حقیقی زندگی کے جیتے جاگتے انسان معلوم ہوتے ہیں۔ یہی حقیقت پسندی ان کی کردار نگاری کا بنیادی وصف ہے۔
ان کے مشہور افسانے آنندی میں مختلف کردار معاشرتی منافقت، اخلاقی تضادات اور انسانی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس افسانے میں کوئی ایک مرکزی کردار نہیں بلکہ پورا معاشرہ ایک کردار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ شہر کے معززین، حکام اور عام شہری سب اپنے اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ ان کرداروں کے ذریعے غلام عباس نے انسانی خود غرضی اور سماجی دوغلے پن کو بے نقاب کیا ہے۔
افسانہ اوورکوٹ میں مرکزی کردار متوسط طبقے کے اس فرد کی نمائندگی کرتا ہے جو معاشی تنگی، احساسِ کمتری اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ اس کردار کی نفسیاتی کیفیت نہایت مؤثر انداز میں پیش کی گئی ہے۔ بظاہر ایک معمولی ضرورت یعنی اوورکوٹ کی خواہش دراصل اس کے معاشرتی وقار اور داخلی محرومی کی علامت بن جاتی ہے۔ غلام عباس نے اس کردار کے ذریعے متوسط طبقے کی نفسیات کو بڑی کامیابی سے اجاگر کیا ہے۔
افسانہ حمام میں کردار انسانی خواہشات، کمزوریوں اور معاشرتی تضادات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں بھی مصنف کرداروں کی ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے باطنی رجحانات کو نمایاں کرتا ہے۔ کرداروں کے اعمال اور رویے معاشرے کے اخلاقی زوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
غلام عباس کے کرداروں کی ایک اہم خصوصیت ان کی علامتی حیثیت ہے۔ بہت سے کردار اپنی انفرادی شناخت سے آگے بڑھ کر پورے طبقے، معاشرے یا انسانی رویے کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کے کردار وقتی نہیں بلکہ آفاقی معنویت کے حامل محسوس ہوتے ہیں۔
ان کی کردار نگاری میں نفسیاتی تجزیہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کرداروں کے اندرونی احساسات، خواہشات، خوف اور محرومیوں کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے ان کے اعمال، مکالموں اور رویوں سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس غیر محسوس اندازِ پیشکش سے کردار زیادہ فطری اور مؤثر بن جاتے ہیں۔
غلام عباس کے کردار مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمین، تاجر، مذہبی پیشوا، متوسط طبقے کے افراد، مزدور اور عام شہری شامل ہیں۔ یہ تنوع ان کے افسانوں کو وسیع سماجی پس منظر عطا کرتا ہے۔ ہر کردار اپنے طبقاتی ماحول اور سماجی حیثیت کے مطابق سوچتا اور عمل کرتا ہے، جس سے افسانوں میں حقیقت پسندی پیدا ہوتی ہے۔
ان کے نسوانی کردار بھی قابلِ توجہ ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد نسبتاً کم ہے، لیکن جہاں بھی عورت کا کردار سامنے آتا ہے وہاں وہ سماجی رویوں، استحصال اور انسانی جذبات کی مؤثر نمائندگی کرتا ہے۔ ان کرداروں کے ذریعے مصنف معاشرے میں عورت کی حیثیت اور اس کے مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
غلام عباس مکالموں کے ذریعے کرداروں کی شخصیت کو نمایاں کرنے کا خاص ہنر رکھتے ہیں۔ ان کے کردار اپنی سماجی حیثیت، تعلیم، مزاج اور ماحول کے مطابق گفتگو کرتے ہیں۔ مکالموں میں اختصار، فطری پن اور معنویت پائی جاتی ہے، جس سے کردار زیادہ زندہ محسوس ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر غلام عباس کے نمائندہ افسانوں کا کرداری مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اردو افسانے کے عظیم کردار نگاروں میں شامل ہیں۔ ان کے کردار حقیقت پسندی، نفسیاتی گہرائی، علامتی معنویت اور سماجی شعور کے حامل ہیں۔ انہوں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کرداروں کے ذریعے اس مہارت سے پیش کیا کہ ان کے افسانے اردو ادب کا مستقل سرمایہ بن گئے۔ ان کی کردار نگاری نہ صرف ان کے فنی کمال کی دلیل ہے بلکہ انسانی معاشرے اور نفسیات کے بارے میں ان کی گہری بصیرت کا بھی مظہر ہے۔



