کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

غالب اور اقبال کی غزل گوئی میں استعارے کا برتاؤ

غالب اور اقبال کی غزل گوئی میں استعارے کا استعمال اردو شاعری کی دو مختلف فکری اور جمالیاتی جہتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ دونوں شعرا نے مروجہ شعری استعاروں سے بھرپور استفادہ کیا، لیکن ان کے ہاں استعارہ محض حسنِ بیان یا لفظی آرائش کا وسیلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی وجود، زندگی، کائنات، عشق، خودی، عقل اور روحانی تجربے کی ترجمانی کا مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔ غالب کے ہاں استعارہ زیادہ تر پیچیدہ انسانی باطن، فلسفیانہ تشکیک، عشق کی ناکامی، آرزو، تنہائی اور وجودی الجھنوں کو بیان کرتا ہے، جب کہ اقبال کے ہاں یہی استعارہ خودی، عمل، حرکت، حریت، روحانی ارتقا اور اجتماعی بیداری کا پیغام بن جاتا ہے۔

غالب کی غزل میں استعارے کا بنیادی وصف اس کی معنوی تہہ داری ہے۔ وہ ایک معمولی اور مانوس شے کو اس انداز سے شعری علامت بنا دیتے ہیں کہ اس کے کئی مفاہیم سامنے آتے ہیں۔ ان کے ہاں دل محض جسمانی عضو نہیں بلکہ انسانی شعور، احساس، آرزو اور اضطراب کا استعارہ بن جاتا ہے۔ آئینہ خود شناسی، حقیقت کے انکشاف اور باطن کی پیچیدگیوں کی علامت ہے۔ شمع اور پروانہ عشق اور فنا کے روایتی استعارے ہیں، لیکن غالب ان روایتی پیکروں کو نئے فکری تناظر میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح صحرا، قفس، گل، بلبل، صیاد، بہار اور خزاں جیسے الفاظ بھی محض خارجی مناظر نہیں بلکہ انسانی زندگی اور اس کے مسائل کی معنوی نمائندگی کرتے ہیں۔

غالب کے ہاں قفس خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قفس کو محض پرندے کی قید گاہ سمجھنے کے بجائے وہ انسانی وجود کی محدودیت اور خواہشات کی پابندی کا استعارہ بنا دیتے ہیں۔ انسان کی آرزو وسیع ہے، مگر اس کا وجود محدود؛ یہی تضاد غالب کی شاعری میں بار بار سامنے آتا ہے۔ اسی طرح پرواز آزادی اور امکان کا استعارہ بنتی ہے، جب کہ صیاد ایسی قوتوں کی علامت بن جاتا ہے جو انسان کی آزادی اور خواہشات کو محدود کرتی ہیں۔

غالب کی شاعری میں آگ، خاک، خون اور شعلہ بھی اہم استعاراتی پیکر ہیں۔ آگ کبھی عشق کی شدت، کبھی خواہش کی تپش اور کبھی داخلی اضطراب کی علامت بن جاتی ہے۔ خاک انسان کی بے ثباتی اور فنا پذیری کو ظاہر کرتی ہے۔ خون زندگی، قربانی اور درد کے مفہوم پیدا کرتا ہے۔ اس طرح غالب خارجی اشیا کو انسانی باطن سے جوڑ دیتے ہیں اور ایک عام لفظ کو فلسفیانہ معنی عطا کر دیتے ہیں۔

غالب کے استعارات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں روایتی اور جدید ذہن ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ وہ فارسی اور اردو شعری روایت سے حاصل شدہ استعاروں کو جوں کا توں قبول نہیں کرتے بلکہ ان میں فکری پیچیدگی پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر عشق کا روایتی تصور ان کے ہاں صرف محبوب کے حصول یا فراق تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی وجود، علم، حقیقت اور کائنات کے بارے میں سوالات سے جڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کا استعارہ قاری کو ایک ہی مفہوم پر نہیں روکتا بلکہ اسے متعدد امکانات کی طرف لے جاتا ہے۔

اقبال کے ہاں استعارے کا مزاج غالب سے مختلف ہے۔ اقبال نے استعارے کو ایک فکری، اخلاقی اور انقلابی وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔ ان کی شاعری میں شاہین سب سے اہم استعاراتی پیکروں میں شمار ہوتا ہے۔ شاہین بلند پروازی، خود اعتمادی، آزادی، مسلسل حرکت، بلند مقصد اور غیرتِ خودی کا استعارہ ہے۔ اقبال کے ہاں شاہین محض ایک پرندہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی علامت ہے جو محدود خواہشات سے بلند ہو کر اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کرتا ہے۔

اسی طرح مردِ مومن اقبال کے شعری نظام کا اہم استعاراتی تصور ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی مثالی شخصیت کی علامت ہے جس میں خودی، ایمان، عمل، بصیرت، حریت اور بلند مقصد جمع ہو جاتے ہیں۔ اقبال جب انسان کو اس مثالی کردار کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو استعارے کے ذریعے ایک مکمل فکری تصور پیش کرتے ہیں۔

اقبال کے ہاں خودی بھی ایک وسیع استعاراتی اور فکری تصور ہے۔ خودی کو محض انا یا خود پسندی کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ یہ انسانی شخصیت کی تخلیقی قوت، خود آگہی، ارادے اور روحانی ارتقا کی نمائندہ ہے۔ اقبال نے اس تصور کو مختلف شعری پیکروں کے ذریعے واضح کیا۔ قطرہ اور دریا، شمع اور پروانہ، ستارہ اور آفتاب، پرواز اور آشیانہ جیسے استعارات ان کے فکری نظام میں فرد اور کائنات، محدودیت اور وسعت، سکون اور حرکت کے رشتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔

اقبال کے ہاں دریا اور موج بھی حرکت اور زندگی کے اہم استعارے ہیں۔ موج کا وجود حرکت سے قائم ہے؛ اس لیے موج جمود کے مقابلے میں عمل اور زندگی کی علامت بن جاتی ہے۔ دریا وسعت، تسلسل اور اجتماعی زندگی کے مفاہیم پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس ٹھہرا ہوا پانی جمود اور بے عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یوں اقبال کا استعاراتی نظام بنیادی طور پر حرکت، جدوجہد اور ارتقا کے تصورات سے وابستہ ہے۔

غالب اور اقبال کے درمیان ایک اہم فرق استعارے کے فکری مقصد کا ہے۔ غالب کا استعارہ سوال پیدا کرتا ہے، جب کہ اقبال کا استعارہ سمت متعین کرتا ہے۔ غالب انسانی وجود کی پیچیدگی، بے یقینی اور داخلی کشمکش کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے استعارے میں ابہام، طنز، تشکیک اور فکری حیرت کی کیفیت زیادہ نمایاں ہے۔ اقبال کے ہاں استعارہ زیادہ واضح فکری اور اخلاقی معنویت اختیار کرتا ہے۔ وہ قاری کو عمل، خود آگہی، حریت اور بلند مقاصد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

دونوں شعرا کے ہاں عشق بھی استعاراتی سطح پر مختلف صورت اختیار کرتا ہے۔ غالب کے ہاں عشق انسانی وجود کی ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو اضطراب، ناکامی، آرزو اور خود آگہی سے دوچار کرتی ہے۔ عشق کے ذریعے انسان اپنی محدودیت سے واقف ہوتا ہے۔ اقبال کے ہاں عشق تخلیقی اور حرکی قوت ہے۔ وہ عقل کے مقابل عشق کو انسانی زندگی میں زیادہ فعال قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس لیے غالب کے ہاں عشق کا استعارہ اکثر داخلی کشمکش پیدا کرتا ہے، جب کہ اقبال کے ہاں وہ تعمیرِ ذات اور عمل کی قوت بن جاتا ہے۔

غالب کے استعاراتی نظام میں رات، چراغ، شمع، آئینہ، پردہ، خواب اور سایہ جیسے پیکر انسانی باطن اور حقیقت کی تلاش سے وابستہ ہیں۔ اقبال کے ہاں صبح، آفتاب، ستارہ، شاہین، صحرا، کوہسار اور دریا زیادہ تر بیداری، بلندی، حرکت اور امکانات کی علامتیں بن جاتے ہیں۔ اس فرق سے دونوں شعرا کے بنیادی مزاج کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ غالب کا شعری منظرنامہ زیادہ داخلی اور سوالیہ ہے، جب کہ اقبال کا منظرنامہ زیادہ حرکی اور تعمیری ہے۔

اس کے باوجود غالب اور اقبال میں ایک بنیادی مماثلت موجود ہے: دونوں نے استعارے کو محض آرائشی صنعت نہیں رہنے دیا۔ دونوں کے ہاں استعارہ فکر اور تجربے کی تشکیل کرتا ہے۔ غالب نے روایتی استعارات کو نئی فلسفیانہ معنویت عطا کی اور انسانی باطن کی پیچیدگیوں کو شعری پیکروں میں ڈھالا، جب کہ اقبال نے انہی شعری امکانات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک ایسے استعاراتی نظام کی تشکیل کی جس میں فرد، خودی، عمل، آزادی اور روحانی ارتقا کے تصورات نمایاں ہوئے۔

یوں غالب کی غزل میں استعارہ باطنی تجربے، سوال، تشکیک اور وجودی احساس کا وسیلہ بنتا ہے، جب کہ اقبال کی غزل میں استعارہ خودی، عمل، حرکت، حریت اور بیداری کی ترجمانی کرتا ہے۔ غالب استعارے کے ذریعے انسانی وجود کی گہرائیوں میں اترتے ہیں اور اقبال اسی وسیلے سے انسان کو بلندی اور عمل کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ دونوں کی استعاراتی شاعری کا تقابلی مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اردو غزل میں استعارہ صرف شعری حسن پیدا کرنے والی صنعت نہیں بلکہ فکر، فلسفے اور انسانی تجربے کو جامع شعری صورت عطا کرنے کی ایک بنیادی قوت ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں