کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

علامہ سیماب اکبر آبادی اور علامہ اقبال کی شاعری کا تقابلی مطالعہ (رومانویت، وطنیت اور مذہبی تجائیت کے حوالےسے)

علامہ سیماب اکبر آبادی اور علامہ محمد اقبال اردو شاعری کی اُن دو نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کے فکری اور فنی دائرے بظاہر مختلف مگر بعض پہلوؤں سے باہم مربوط بھی ہیں۔ اقبال کو اگر برصغیر کے فکری احیا، فلسفیانہ شاعری اور ملتِ اسلامیہ کے شعور کی بیداری کا شاعر کہا جائے تو سیماب اکبر آبادی کو غزل کی روایت میں تہذیبی تسلسل، زبان و بیان کی شگفتگی، اور فنی سلیقے کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ دونوں شاعروں کا عہد ایک ایسا زمانہ تھا جب برصغیر سیاسی غلامی، تہذیبی اضطراب اور فکری تبدیلی کے شدید دباؤ میں تھا۔ اسی لیے دونوں کی شاعری میں رومانویت، وطنیت اور مذہبی رجحانات کی جھلکیں ملتی ہیں، مگر ان کی نوعیت، شدت اور فکری سمت مختلف ہے۔ تقابلی مطالعہ کا مقصد یہی ہے کہ دونوں شاعروں کے ہاں ان عناصر کی صورت گری کو سمجھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ایک ہی عہد کے دو شاعر اپنے اپنے مزاج، شعری روایت اور فکری مقصد کے تحت ان موضوعات کو کس طرح برتتے ہیں۔

رومانویت کے حوالے سے دیکھا جائے تو سیماب اکبر آبادی کی شاعری میں رومانوی کیفیت غزل کی کلاسیکی روایت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان کے ہاں عشق، حسن، جدائی، آرزو اور دل کی نازک کیفیات بنیادی موضوعات ہیں۔ سیماب کی رومانویت زیادہ تر جمالیاتی اور جذباتی ہے، یعنی وہ عشق کو انسانی دل کے لطیف تجربے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں محبوب کی بے نیازی، عاشق کی بے قراری، اور دل کی ٹوٹ پھوٹ ایک ایسے انداز میں آتی ہے جو اردو غزل کی صدیوں پرانی روایت سے ہم آہنگ ہے۔ سیماب کے یہاں رومانویت میں نرمی، نزاکت اور کلاسیکی شائستگی پائی جاتی ہے، اور ان کا تخیل زیادہ تر داخلی احساسات کی دنیا میں حرکت کرتا ہے۔ اس کے برعکس علامہ اقبال کی رومانویت محض محبوب و عاشق کے دائرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک بلند تر فکری اور روحانی سطح اختیار کر لیتی ہے۔ اقبال کے ہاں عشق ایک قوتِ محرکہ ہے، ایک ایسی توانائی جو انسان کو خودی کی تکمیل، عمل کی جرات اور بلند مقصد کی طرف لے جاتی ہے۔ اقبال کی رومانویت میں جذباتی لطافت کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی جوش بھی موجود ہے۔ وہ عشق کو صرف دل کی کیفیت نہیں بلکہ زندگی کی تعمیر کا اصول بناتے ہیں۔ اسی لیے اقبال کی رومانویت زیادہ تر “فکری رومانویت” ہے، جہاں محبت کا تصور قوم، ملت اور انسانیت کے بڑے مقصد سے جڑ جاتا ہے۔

سیماب اکبر آبادی کے ہاں رومانویت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ روایت کی حدود میں رہتے ہوئے بھی زبان کی تازگی اور محاورے کی دلکشی پیدا کرتے ہیں۔ ان کی غزل میں تغزل کا عنصر نمایاں ہے اور ان کے اشعار قاری کو جذبے کی سطح پر متاثر کرتے ہیں۔ اقبال کے ہاں تغزل کم اور پیغام زیادہ ہے، اگرچہ اقبال کے ابتدائی کلام میں رومانوی رنگ موجود ہے، مگر جلد ہی ان کی شاعری ایک فکری اور مقصدی رخ اختیار کر لیتی ہے۔ اقبال کے یہاں محبوب کا تصور کبھی حقیقتِ مطلقہ، کبھی قوم، کبھی خدا اور کبھی انسان کے بلند نصب العین کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس لیے اقبال کی رومانویت میں “علامتی وسعت” زیادہ ہے جبکہ سیماب کی رومانویت میں “جمالیاتی تسلسل” زیادہ نمایاں ہے۔

وطنیت کے حوالے سے دونوں شاعروں کا تقابل بہت اہم ہے کیونکہ دونوں نے ایک ایسے دور میں شاعری کی جب برصغیر میں آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ سیماب اکبر آبادی کی شاعری میں وطنیت کا اظہار زیادہ تر جذباتی وابستگی اور تہذیبی محبت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ان کے ہاں وطن ایک یاد، ایک تعلق اور ایک محبت کا مرکز ہے۔ وہ اپنے وطن کی ثقافت، زبان اور روایات کے ساتھ جذباتی رشتہ قائم کرتے ہیں۔ ان کی وطنیت میں ایک نرم سا دکھ بھی شامل ہوتا ہے، کیونکہ غلامی کے دور میں وطن کی حالت دیکھ کر شاعر کا دل زخمی ہوتا ہے۔ تاہم سیماب کی وطنیت زیادہ تر غزل کے انداز میں محدود اور داخلی رہتی ہے، یعنی وہ وطن کو بھی ایک محبوب شے کی طرح محسوس کرتے ہیں اور اس کے لیے درد و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

اقبال کی وطنیت اس سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے۔ اقبال نے ابتدا میں وطنیت کے جذباتی پہلو کو اپنایا اور حب الوطنی کی نظمیں لکھیں، مگر بعد میں ان کا فکری سفر وطنیت سے بڑھ کر ملتِ اسلامیہ کے تصور کی طرف چلا گیا۔ اقبال کے نزدیک وطنیت اگر انسان کو محدود کر دے اور اسے ملت یا انسانیت کے بڑے رشتے سے کاٹ دے تو وہ ایک خطرناک تصور بن جاتی ہے۔ اسی لیے اقبال کے ہاں وطنیت ایک مرحلہ ہے، منزل نہیں۔ وہ وطن سے محبت کرتے ہیں مگر اسے آخری مقصد نہیں بناتے۔ ان کی شاعری میں وطنیت کا تصور ملت کے تصور کے ساتھ جڑ کر ایک وسیع تر معنویت اختیار کرتا ہے۔ اقبال وطن کی محبت کو رد نہیں کرتے بلکہ اسے ایک بڑے دائرے میں رکھتے ہیں، جہاں اصل شناخت مذہبی اور تہذیبی وحدت ہے۔ اس طرح اقبال کی وطنیت میں جذبات کے ساتھ فکری احتساب بھی شامل ہے، جبکہ سیماب کی وطنیت زیادہ تر جذباتی اور تہذیبی سطح پر رہتی ہے۔

مذہبی تجدیدیت کے حوالے سے دونوں شاعروں کے درمیان سب سے واضح فرق سامنے آتا ہے۔ سیماب اکبر آبادی کی شاعری میں مذہبی رجحان موجود ہے مگر وہ زیادہ تر روایتی اور اخلاقی نوعیت کا ہے۔ ان کے ہاں مذہب ایک تہذیبی پس منظر اور روحانی وابستگی کے طور پر آتا ہے۔ وہ مذہبی احساس کو غزل کے لطیف انداز میں بیان کرتے ہیں، جہاں خدا سے دعا، تقدیر کا شکوہ، اور روحانی جذبہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ لیکن سیماب کا مقصد مذہبی نظام کی تجدید یا فکری انقلاب پیدا کرنا نہیں ہوتا۔ ان کے ہاں مذہب زیادہ تر ایک ذاتی عقیدت یا اخلاقی رنگ کے طور پر موجود رہتا ہے۔

اقبال کے ہاں مذہبی تجدیدیت ایک بنیادی اور مرکزی عنصر ہے۔ اقبال کی شاعری کا بڑا مقصد مسلمانوں میں فکری بیداری، دینی شعور کی تازگی اور عمل کی قوت پیدا کرنا ہے۔ وہ مذہب کو محض عبادت یا روایت نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک زندہ اور متحرک نظامِ حیات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اقبال کی تجدیدیت میں قرآن کی فکر، اسلامی تاریخ کا شعور، اور جدید دنیا کے چیلنجز کے مقابلے میں مسلمانوں کی نئی تشکیل کا تصور شامل ہے۔ اقبال کے ہاں مذہب ایک انقلابی قوت ہے جو فرد کو خودی عطا کرتا ہے، قوم کو وحدت دیتا ہے، اور زندگی کو مقصدیت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری میں مذہبی تجدیدیت ایک فکری تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جبکہ سیماب کے ہاں مذہبی عناصر زیادہ تر روحانی یا اخلاقی تاثر کی شکل میں رہتے ہیں۔

اقبال کے ہاں مذہبی تجدیدیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ روایت پرستی کے خلاف ہیں۔ وہ مسلمانوں کو جمود سے نکال کر اجتہاد، عمل اور حرکت کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب کا اصل پیغام زندگی کی تعمیر ہے، نہ کہ صرف ماضی کی تقلید۔ اس کے برعکس سیماب اکبر آبادی کی شاعری روایت کے تسلسل کی نمائندہ ہے۔ وہ کلاسیکی غزل کی روایت کو برقرار رکھتے ہیں اور اسی کے اندر اپنی فنی مہارت دکھاتے ہیں۔ اس لیے اقبال کی شاعری میں “انقلاب” کا عنصر غالب ہے اور سیماب کی شاعری میں “تہذیبی تسلسل” کا عنصر نمایاں ہے۔

اگر فنی سطح پر تقابل کیا جائے تو سیماب اکبر آبادی کا کمال زبان کی شگفتگی، محاورے کی روانی اور غزل کے روایتی آہنگ میں ہے۔ ان کے ہاں شعر کا حسن زیادہ تر تغزل، لطافت اور بیان کی نزاکت سے پیدا ہوتا ہے۔ اقبال کا کمال فکر کی بلندی، علامتی وسعت اور پیغام کی قوت میں ہے۔ اقبال کے یہاں شاعری محض جمالیاتی تجربہ نہیں بلکہ ایک فکری دعوت ہے۔ سیماب کا دائرہ زیادہ تر غزل اور کلاسیکی روایت میں ہے، جبکہ اقبال نے نظم کو اپنی فکری ترجمانی کا بڑا وسیلہ بنایا۔ اسی لیے دونوں کے اسلوب میں بھی فرق ہے: سیماب نرم، لطیف اور روایتی انداز رکھتے ہیں، جبکہ اقبال پرجوش، خطیبانہ اور فکری انداز اپناتے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ علامہ سیماب اکبر آبادی اور علامہ اقبال کی شاعری کا تقابلی مطالعہ ہمیں اردو شاعری کی دو مختلف جہات دکھاتا ہے۔ سیماب کی شاعری رومانویت میں تغزل اور جمالیاتی نزاکت کی نمائندہ ہے، وطنیت میں تہذیبی محبت اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتی ہے، اور مذہبی رجحان میں روایتی روحانی رنگ رکھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اقبال کی شاعری رومانویت کو عشق کی انقلابی قوت میں بدل دیتی ہے، وطنیت کو ملت اور انسانیت کے وسیع تر تصور سے جوڑتی ہے، اور مذہبی تجدیدیت کو ایک فکری تحریک کی صورت میں پیش کرتی ہے۔ دونوں شاعروں کی یہ خصوصیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک ہی عہد میں اردو شاعری کس طرح مختلف مزاجوں اور مقاصد کے ساتھ آگے بڑھتی ہے: ایک طرف روایت کی خوبصورتی اور زبان کی لطافت، دوسری طرف فکر کی بلندی اور قوم کی بیداری۔ یہی تنوع اردو شاعری کی اصل قوت ہے اور اسی سے اس کی ادبی عظمت قائم رہتی ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں