بیسویں صدی اردو ادب کی تاریخ میں بچوں کے ادب کے ارتقا اور فروغ کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس صدی میں بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنے کا رجحان ایک باقاعدہ ادبی اور تعلیمی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اس سے قبل بچوں کے لیے زیادہ تر اخلاقی حکایات، مذہبی قصے، لوک کہانیاں اور نصیحت آموز تحریریں پیش کی جاتی تھیں، لیکن بیسویں صدی میں بچوں کی نفسیات، ذہنی استعداد، عمر کے تقاضوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ادب تخلیق کرنے کی روایت مضبوط ہوئی۔ اس دور میں بچوں کی دلچسپی کے موضوعات کو اہمیت دی گئی اور کہانی، نظم، ناول، ڈرامے اور معلوماتی مضامین جیسی اصناف میں قابلِ قدر سرمایہ سامنے آیا۔ بچوں کے ادب کا مقصد محض اخلاقی تربیت اور تفریح فراہم کرنا نہیں رہا بلکہ اس کے ذریعے بچوں میں تخیل، مشاہدے، مطالعے اور فکری شعور کو فروغ دینے کی کوشش بھی کی گئی۔
بیسویں صدی میں بچوں کے اردو ادب کے فروغ میں مختلف ادیبوں، شاعروں اور ادبی رسائل و جرائد نے اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں اسماعیل میرٹھی، صوفی تبسم، حفیظ جالندھری، غلام عباس، امتیاز علی تاج اور دیگر اہلِ قلم کی تخلیقات نے بچوں کے ادب کو موضوعاتی اور فنی اعتبار سے وسعت دی۔ بچوں کے لیے نظم اور کہانی کی تخلیق میں زبان کی سادگی، دل چسپ واقعات، مکالمے، مزاح اور تخیل کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ پھول، غنچہ، پیامِ تعلیم اور دیگر رسائل نے بچوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے اور نئے لکھنے والوں کو تخلیقی مواقع فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان رسائل میں شائع ہونے والی کہانیوں، نظموں، ڈراموں اور معلوماتی تحریروں نے بچوں کے ادبی ذوق کی تشکیل اور اردو زبان سے ان کی وابستگی کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔
بیسویں صدی کے بچوں کے اردو ادب کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اس میں متعدد فکری اور فنی رجحانات سامنے آتے ہیں۔ ابتدائی دور میں اخلاقی تعلیم، مذہبی اقدار، حب الوطنی اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی، جب کہ بعد کے ادوار میں سائنسی شعور، سماجی آگہی، فطرت سے محبت، قومی یکجہتی، انسانی ہمدردی اور جدید طرزِ زندگی جیسے موضوعات نے بھی جگہ بنائی۔ اس دور کے ادب میں بچوں کی نفسیات اور دلچسپیوں کو سمجھنے کی کوشش ضرور ملتی ہے، تاہم بعض تخلیقات میں غیر ضروری نصیحت، بالغوں کے تصورات کی بالادستی اور بچوں کی فطری ذہنی سطح سے بلند زبان و بیان جیسے مسائل بھی موجود رہے۔ اس کے باوجود بچوں کے ادب نے اردو زبان و ادب کی ترویج، نئی نسل کی تربیت اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں تراجم اور دوسری زبانوں کی کہانیوں سے استفادے نے بھی بچوں کے اردو ادب کے موضوعاتی دائرے کو وسعت دی۔
زیرِ نظر موضوع کے تحت بیسویں صدی میں بچوں کے اردو ادب کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا جائے گا۔ اس تحقیق میں بچوں کے ادب کے تاریخی و ارتقائی مراحل، اہم ادیبوں، شاعروں، نمایاں تخلیقات، رسائل و جرائد اور اشاعتی اداروں کی خدمات کا جائزہ لیا جائے گا۔ بالخصوص نظم، کہانی، ناول، ڈرامے اور دیگر اصناف کے موضوعاتی، فکری، فنی اور اسلوبیاتی پہلوؤں کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ بچوں کی نفسیات، تعلیمی و تربیتی ضروریات، اخلاقی شعور، تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے ادبی تخلیقات کی افادیت کا تعین بھی تحقیق کا حصہ ہوگا۔ مزید برآں، بیسویں صدی کے مختلف ادوار میں بچوں کے ادب کے رجحانات، کامیابیوں، فنی کمزوریوں اور مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے اردو ادب کی مجموعی روایت میں اس کے مقام و مرتبے کا تعین کیا جائے گا۔



