کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

اکیسویں صدی کے منتخب اردو ناول کا نوتاریخی مطالعہ

اکیسویں صدی میں اردو ناول نے اپنے موضوعات، فکری جہات اور فنی تکنیک کے اعتبار سے نمایاں وسعت اختیار کی ہے۔ اس عہد کا ناول محض فرد کی داخلی کیفیات، معاشرتی مسائل یا سیاسی حالات کی عکاسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ تاریخ، سیاست، ثقافت، طاقت، شناخت، مذہب، قومیت، نوآبادیاتی ورثے اور اجتماعی حافظے کو نئے زاویوں سے دیکھتا ہے۔ اس تناظر میں نوتاریخیت (New Historicism) کا نظریاتی فریم ورک اکیسویں صدی کے منتخب اردو ناولوں کے مطالعے کے لیے نہایت موزوں دکھائی دیتا ہے۔ نوتاریخیت تاریخ کو ایک جامد اور غیر جانب دار حقیقت سمجھنے کے بجائے اسے مخصوص عہد کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور طاقت کے نظاموں سے تشکیل پانے والا بیانیہ قرار دیتی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق ادبی متن تاریخ سے الگ کوئی خود مختار وجود نہیں رکھتا بلکہ متن اور تاریخ ایک دوسرے کی تشکیل میں شریک ہوتے ہیں۔

نوتاریخی تنقید کے اہم نمائندوں میں اسٹیفن گرین بلاٹ کا نام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گرین بلاٹ نے ادب اور تاریخ کے باہمی تعلق کو طاقت، ثقافت اور سماجی رویوں کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیا۔ نوتاریخیت کے مطابق کسی ادبی متن کو اس کے عہد کے سیاسی اور سماجی حالات سے الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں۔ ادب اپنے عہد کے طاقت کے رشتوں، اقدار، تصورات اور نظریاتی کشمکش کو جذب کرتا ہے اور بسا اوقات انہی طاقت کے نظاموں کو چیلنج بھی کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اکیسویں صدی کے اردو ناولوں کا نوتاریخی مطالعہ اس امر کی تلاش کرتا ہے کہ ناول نگار نے اپنے عہد کی تاریخ کو کس طرح دریافت، تشکیل یا بازتخلیق کیا ہے اور تاریخی واقعات کو بیان کرتے ہوئے کن متبادل آوازوں، خاموشیوں اور حاشیائی تجربات کو سامنے لایا ہے۔

اکیسویں صدی کے اردو ناول میں تاریخ کا رجوع محض ماضی کی بازیافت کے لیے نہیں بلکہ حال کو سمجھنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ ناول نگار ماضی کے کسی واقعے، شخصیت یا تہذیبی صورتِ حال کو موجودہ عہد کے سوالات سے مربوط کرتا ہے۔ اس طرح تاریخ ناول میں پس منظر کے بجائے ایک فعال قوت بن جاتی ہے۔ ماضی اور حال کے درمیان یہ مکالمہ نوتاریخی مطالعے کی بنیادی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر تقسیمِ ہند، ہجرت، سقوطِ ڈھاکہ، افغان جنگ، دہشت گردی، نوآبادیاتی تجربہ، جاگیردارانہ نظام، مذہبی انتہاپسندی، شہری تشدد اور بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے جیسے موضوعات کو اکیسویں صدی کے ناول نگار محض تاریخی واقعات کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے انسانی اور تہذیبی اثرات کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

اس حوالے سے علی اکبر ناطق کے ناول خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں تاریخ، سیاست، نوآبادیاتی اثرات، دیہی معاشرت اور طاقت کے مختلف مراکز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بالخصوص نولکھی کوٹھی کو نوتاریخی زاویے سے دیکھا جائے تو برطانوی نوآبادیاتی عہد، مقامی جاگیردارانہ ساخت، طبقاتی تقسیم اور ہندوستانی معاشرت کے باہمی تعلقات کا مطالعہ ممکن ہے۔ یہاں تاریخ محض واقعات کا تسلسل نہیں بلکہ اقتدار کے مختلف مراکز اور ان کے درمیان تعلقات کی تشکیل کرتی ہے۔ ناول کا تاریخی ماحول اس عہد کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کو سمجھنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح محمد حنیف کے ناول اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز کو بھی تاریخ، سیاست اور طاقت کے باہمی تعلق کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ناول میں پاکستان کی سیاسی تاریخ، جنرل ضیاء الحق کا عہد، ریاستی طاقت، مذہب اور سیاسی اداروں کے تعلقات کو طنزیہ اور تخیلی پیرایے میں پیش کیا گیا ہے۔ نوتاریخی مطالعے میں اس ناول کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ سرکاری یا روایتی تاریخی بیانیے کو براہِ راست دہرانے کے بجائے اسے تخیل، طنز اور متبادل بیانیے کے ذریعے ازسرِنو تشکیل دیتا ہے۔ اس طرح ناول تاریخ کے ’’مستند‘‘ تصور پر سوال اٹھاتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ تاریخ کی تشکیل میں طاقت اور بیانیے کا کیا کردار ہوتا ہے۔

خالدہ حسین، مرزا اطہر بیگ اور دیگر معاصر ناول نگاروں کے ہاں بھی تاریخ اور فرد کے تعلق کو مختلف سطحوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ بالخصوص مرزا اطہر بیگ کے ناولوں میں جدید شہری زندگی، سیاسی و سماجی ساخت، فرد کی شناخت اور بدلتی ہوئی تہذیبی صورتِ حال ایسے عناصر ہیں جنہیں نوتاریخی تناظر میں طاقت، علم اور سماجی تشکیل کے تصورات کے ساتھ مربوط کیا جاسکتا ہے۔ ان کے ہاں تاریخ روایتی خطی ترتیب کے بجائے ایک پیچیدہ اور متداخل تجربے کی صورت اختیار کرتی ہے۔

نوتاریخی مطالعے میں ’’حاشیہ‘‘ اور ’’مرکز‘‘ کا تصور بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ روایتی تاریخ عموماً فاتحین، حکمرانوں، طاقت ور طبقات اور مرکزی اداروں کے نقطۂ نظر سے لکھی جاتی ہے، جب کہ ناول ان لوگوں کی آواز بھی محفوظ کرسکتا ہے جو سرکاری تاریخ میں نظر انداز ہوگئے ہوں۔ اکیسویں صدی کے اردو ناول میں عورت، کسان، مزدور، مہاجر، اقلیتی گروہ، دیہی انسان اور سیاسی طور پر بے اختیار افراد کی زندگیوں کی نمائندگی اسی تناظر میں اہم ہوجاتی ہے۔ نوتاریخی تنقید یہ دیکھتی ہے کہ ناول کس طرح حاشیے پر موجود کرداروں کو تاریخی شعور عطا کرتا ہے اور ان کے تجربات کے ذریعے غالب تاریخی بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔

اس تناظر میں اکیسویں صدی کے اردو ناول میں تقسیم اور ہجرت کا موضوع خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تقسیمِ ہند 1947ء کا واقعہ بظاہر ماضی کا ایک تاریخی واقعہ ہے، لیکن اس کے اثرات آج بھی برصغیر کے اجتماعی حافظے میں موجود ہیں۔ معاصر ناول نگار جب تقسیم، ہجرت اور فسادات کو موضوع بناتا ہے تو وہ صرف ماضی کو بیان نہیں کرتا بلکہ موجودہ عہد میں شناخت، قومیت، مذہب اور سرحد کے سوالات کو بھی زیرِ بحث لاتا ہے۔ نوتاریخی مطالعے میں یہ دیکھا جائے گا کہ مختلف ناول نگار ایک ہی تاریخی واقعے کو مختلف زاویوں سے کس طرح بیان کرتے ہیں اور ان کے بیانیوں میں کون سی آوازیں نمایاں یا خاموش ہیں۔

نوتاریخی زاویے سے زبان بھی محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ طاقت کا ایک نظام ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو ناول میں اردو کے ساتھ مقامی بولیوں، انگریزی، پنجابی، پشتو اور دیگر لسانی عناصر کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زبانیں بھی سماجی اور ثقافتی طاقت کے رشتوں سے وابستہ ہیں۔ ناول نگار جب کسی کردار کو مخصوص زبان، لہجے یا بولی میں گفتگو کرواتا ہے تو وہ دراصل اس کردار کی سماجی شناخت اور تہذیبی پس منظر کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ چنانچہ نوتاریخی مطالعے میں ناول کی لسانی ساخت کو بھی تاریخی اور ثقافتی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

اسی طرح مذہب اور مذہبی بیانیے کی تشکیل بھی اکیسویں صدی کے اردو ناول کا اہم موضوع ہے۔ بعض ناولوں میں مذہب فرد کے اخلاقی اور روحانی تجربے کی صورت میں سامنے آتا ہے، جب کہ بعض میں مذہب سیاسی طاقت، ریاستی بیانیے یا سماجی کنٹرول کے ساتھ مربوط دکھائی دیتا ہے۔ نوتاریخی تنقید ان مختلف صورتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتی ہے کہ مذہبی تصورات کسی مخصوص تاریخی عہد میں کس طرح تشکیل پاتے اور استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح ناول مذہب کو محض عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی تشکیل کے طور پر بھی پیش کرسکتا ہے۔

اکیسویں صدی کے اردو ناول میں عورت کی نمائندگی بھی نوتاریخی مطالعے کا اہم موضوع بن سکتی ہے۔ تاریخ کے روایتی بیانیوں میں خواتین کے تجربات اکثر ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ ناول ان کی نجی زندگی، گھریلو تجربات، سماجی پابندیوں، سیاسی شعور اور شناخت کے مسائل کو مرکزی حیثیت دے سکتا ہے۔ نوتاریخی مطالعہ یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ معاصر ناول میں عورت کس حد تک تاریخی عمل کی فعال کردار ہے اور کس حد تک اسے پدر سری سماجی نظام کی پیدا کردہ خاموشی کا نمائندہ بنایا گیا ہے۔

اس پورے تناظر میں اکیسویں صدی کے منتخب اردو ناولوں کا نوتاریخی مطالعہ محض تاریخی ناولوں کا مطالعہ نہیں ہوگا۔ اس کا دائرہ ان تمام ناولوں تک پھیل سکتا ہے جن میں تاریخ، اجتماعی حافظہ، سیاسی اقتدار، تہذیبی تبدیلی، شناخت، نوآبادیاتی ورثہ اور سماجی طاقت کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوں۔ اس طریقۂ مطالعہ کے ذریعے ناول کو ایک ایسے ثقافتی متن کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جو اپنے عہد کے دوسرے متون، سیاسی واقعات، سماجی اداروں اور طاقت کے نظاموں کے ساتھ مسلسل مکالمے میں رہتا ہے۔

نتیجتاً کہا جاسکتا ہے کہ اکیسویں صدی کے منتخب اردو ناول کا نوتاریخی مطالعہ اردو ناول کی تفہیم کے لیے ایک وسیع اور بامعنی تنقیدی امکان فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ناول میں موجود تاریخی شعور، طاقت کے رشتے، غالب اور متبادل بیانیے، اجتماعی حافظہ، حاشیائی آوازیں اور تہذیبی تبدیلیاں زیادہ گہرائی کے ساتھ سامنے آسکتی ہیں۔ اس زاویے سے اردو ناول نہ صرف اپنے عہد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ تاریخ کو نئے معنی بھی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوتاریخی تنقید کے تناظر میں اکیسویں صدی کا اردو ناول ایک ایسے متحرک ثقافتی متن کے طور پر سامنے آتا ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے سے مسلسل مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
:::

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں