انیسویں اور بیسویں صدی کا ہندوستان سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری اعتبار سے شدید تغیرات کا دور تھا۔ مغلیہ سلطنت کے زوال، برطانوی اقتدار کے استحکام، 1857ء کی جنگِ آزادی، جدید مغربی علوم کے فروغ اور نوآبادیاتی نظامِ تعلیم نے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک نئے فکری بحران سے دوچار کردیا۔ مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ بدلتے ہوئے حالات میں ان کی مذہبی، تہذیبی اور سماجی شناخت کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے اور وہ جدید دنیا کے علمی و عملی تقاضوں کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں مسلم مفکرین نے تعلیم کو محض حصولِ روزگار یا معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے فرد کی اخلاقی تربیت، مذہبی شعور، قومی بیداری، سماجی اصلاح اور تہذیبی بقا کا بنیادی وسیلہ قرار دیا۔ اسی پس منظر میں سرسید احمد خان، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا محمد علی جوہر، شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال اور دیگر مفکرین کے تصوراتِ تعلیم تشکیل پاتے ہیں۔
سرسید احمد خان کا تصورِ تعلیم انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک نئے فکری عہد کا آغاز کرتا ہے۔ 1857ء کے بعد سرسید نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیادی وجوہ میں جدید علوم سے دوری بھی شامل ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان اگر جدید سیاسی، معاشی اور سماجی حالات میں اپنا مقام برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں انگریزی زبان، سائنسی علوم، جدید فلسفے اور عصری تعلیم سے واقف ہونا ہوگا۔ تاہم سرسید کی تعلیمی فکر کا مقصد محض مغربی تہذیب کی نقالی نہیں تھا۔ وہ مسلمانوں کو جدید علوم سے بہرہ مند کرتے ہوئے ان کی مذہبی اور تہذیبی شناخت بھی برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
سرسید کے تصورِ تعلیم میں عقل اور علم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ وہ مذہب اور عقل کے درمیان تصادم کے قائل نہیں تھے بلکہ ان کے نزدیک صحیح عقل اور صحیح مذہبی فکر میں بنیادی تضاد نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے وہ سائنسی علوم کے فروغ کو مسلمانوں کی فکری ترقی کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا تعلیمی منصوبہ ایک ایسے مسلمان کی تشکیل چاہتا تھا جو جدید دنیا کے علمی تقاضوں کو سمجھتا ہو، انگریزی زبان اور جدید علوم سے واقف ہو، مگر اپنی تہذیبی شناخت سے بھی بے خبر نہ ہو۔ علی گڑھ تحریک اسی تعلیمی تصور کی عملی صورت تھی۔
سرسید کے تصورِ تعلیم کا ایک اہم پہلو کردار سازی بھی تھا۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اخلاق، نظم و ضبط، شائستگی، وسیع النظری اور عملی زندگی کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ وہ مسلمانوں میں جدید تعلیم کے ذریعے ایک ایسی متوسط اور تعلیم یافتہ طبقے کی تشکیل چاہتے تھے جو معاشرے کی قیادت کرسکے۔ اس اعتبار سے سرسید کی تعلیمی تحریک نے ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ایک نئی فکری اور سماجی حرکت پیدا کی۔
سرسید کے مقابلے میں دارالعلوم دیوبند سے وابستہ علما نے تعلیم کا ایک مختلف مگر اہم تصور پیش کیا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے رفقا کے نزدیک مسلمانوں کی تہذیبی اور دینی بقا کا بنیادی ذریعہ دینی تعلیم تھی۔ 1857ء کے بعد جب مسلمانوں کی سیاسی قوت ختم ہوچکی تھی اور نوآبادیاتی اقتدار مستحکم ہوچکا تھا، تو علما نے محسوس کیا کہ اگر دینی علوم کی روایت کمزور ہوگئی تو مسلمانوں کی مذہبی شناخت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ چنانچہ مدارس کے ذریعے قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم کو منظم کیا گیا۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی کے تصورِ تعلیم میں تعلیم اور تربیت لازم و ملزوم ہیں۔ مدرسہ محض معلومات فراہم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ دینی شخصیت کی تشکیل کا مرکز ہے۔ ان کے نزدیک علم کا مقصد انسان کو دین کی صحیح سمجھ، اخلاقی ذمہ داری اور عملی زندگی میں شریعت کی پیروی کے قابل بنانا ہے۔ دیوبندی تعلیمی فکر نے روایت، دینی علوم اور اخلاقی تربیت کو مرکزی حیثیت دی۔ اس نظام کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے باوجود اسلامی علمی روایت کا تسلسل قائم رہے۔
شبلی نعمانی نے انیسویں اور بیسویں صدی کے درمیان ایک ایسی تعلیمی فکر پیش کی جس میں دینی اور عصری علوم کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ شبلی جدید مغربی علوم کی افادیت سے انکار نہیں کرتے تھے، لیکن وہ اس امر کے خواہاں تھے کہ مسلمانوں کی تعلیم ان کی اپنی تہذیبی اور علمی روایت سے کٹ کر نہ رہ جائے۔ ان کے نزدیک تعلیم یافتہ مسلمان کو اپنی تاریخ، ادب، مذہب اور تہذیب سے بھی واقف ہونا چاہیے اور جدید علمی دنیا سے بھی۔
شبلی کی تعلیمی فکر میں تاریخ اور شعورِ ماضی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے نزدیک جو قوم اپنی تاریخ، علمی ورثے اور تہذیبی شناخت سے بے خبر ہوجائے، وہ اپنی اجتماعی شخصیت کھو دیتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے مسلمانوں کے علمی ماضی کو اجاگر کرنے اور نئی نسل کو اپنے بزرگوں کی علمی خدمات سے آگاہ کرنے پر زور دیا۔ ان کی تعلیمی فکر میں تحقیق، تنقید، مطالعہ، عقل اور تاریخی شعور نمایاں عناصر ہیں۔ وہ ایسی تعلیم کے خواہاں تھے جو محض ملازمت کے لیے افراد پیدا نہ کرے بلکہ صاحبِ فکر اور صاحبِ کردار انسان تشکیل دے۔
مولانا محمد علی جوہر کے تصورِ تعلیم میں قومی اور سیاسی بیداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم انسان میں آزادی، خود اعتمادی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ ایسی تعلیم کے مخالف تھے جو انسان کو صرف نوآبادیاتی نظام کا فرمانبردار کارکن بنا دے۔ ان کے نزدیک تعلیم یافتہ انسان کو اپنے سیاسی حقوق، قومی ذمہ داریوں اور تہذیبی شناخت کا شعور ہونا چاہیے۔ ان کی صحافت، سیاسی جدوجہد اور تعلیمی سرگرمیوں میں یہ تصور واضح طور پر سامنے آتا ہے۔
علامہ محمد اقبال نے بیسویں صدی میں مسلم تصورِ تعلیم کو ایک زیادہ وسیع فلسفیانہ بنیاد فراہم کی۔ اقبال کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد انسان کی شخصیت میں موجود تخلیقی قوتوں کو بیدار کرنا ہے۔ وہ ایسی تعلیم پر تنقید کرتے ہیں جو انسان کو محض معلومات کا ذخیرہ بنا دے لیکن اس میں خود اعتمادی، عمل، اخلاقی قوت اور تخلیقی صلاحیت پیدا نہ کرے۔ ان کے تصورِ تعلیم میں ’’خودی‘‘ مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو فرد کو اپنی شخصیت کی قوتوں کا شعور دے اور اسے فعال، باہمت اور ذمہ دار انسان بنائے۔
اقبال کے نزدیک تعلیم کو محض مغربی فکر کی تقلید نہیں بننا چاہیے۔ وہ مغربی سائنس اور جدید علم کی افادیت کے منکر نہیں تھے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ علم کے ساتھ ایک واضح اخلاقی اور روحانی مقصد بھی ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک مغربی تہذیب نے سائنس اور مادی ترقی میں نمایاں کامیابی حاصل کی، لیکن اگر علم اخلاق اور روحانیت سے منقطع ہوجائے تو انسان کی شخصیت میں توازن باقی نہیں رہتا۔ اس لیے اقبال کا تصورِ تعلیم عقل، روح، اخلاق، عمل اور تخلیقی صلاحیت کے امتزاج پر قائم ہے۔
اقبال کے تصورِ تعلیم میں فرد اور ملت کا تعلق بھی اہم ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم یافتہ فرد صرف اپنی ذاتی ترقی کا ذمہ دار نہیں بلکہ اسے معاشرے اور ملت کی تعمیر میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ ایسی تعلیم چاہتے ہیں جو فرد میں حریت، خود اعتمادی، ایثار، شجاعت اور عمل کی صفات پیدا کرے۔ ان کے تصور میں استاد کا کردار بھی محض معلومات منتقل کرنے والے شخص کا نہیں بلکہ شخصیت سازی کرنے والے مربی کا ہے۔ اس طرح اقبال نے تعلیم کو انسانی شخصیت کی ہمہ جہت تعمیر کے ساتھ مربوط کیا۔
بیسویں صدی میں مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی تعلیم کے میدان میں ایک جامع تصور پیش کیا۔ ان کے نزدیک تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور قوم کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بھی۔ وہ جدید تعلیم، سائنسی شعور اور وسیع علمی رسائی کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی معاشرے میں تعلیم کو انسانوں کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ آزاد کی تعلیمی فکر میں مذہبی شعور کے ساتھ جدید علم اور وسیع انسانی نقطۂ نظر موجود ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے تصورِ تعلیم میں مادری زبان اور قومی زبانوں کی اہمیت بھی نمایاں ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم اگر عوام کی بڑی تعداد تک پہنچانی ہے تو اسے عام فہم زبانوں کے ذریعے پھیلانا ضروری ہے۔ وہ تعلیم کو اشرافیہ تک محدود رکھنے کے مخالف تھے اور چاہتے تھے کہ عام آدمی بھی جدید علم سے مستفید ہو۔ ان کے تعلیمی تصور میں بنیادی تعلیم، سائنسی شعور، ثقافتی ہم آہنگی اور قومی تعمیر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر حسین نے بھی تعلیم کو شخصیت سازی اور معاشرتی تعمیر کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ ان کے تعلیمی تصور میں عملی تربیت، محنت، خود انحصاری اور اخلاقی کردار کو اہم مقام حاصل ہے۔ وہ تعلیم کو زندگی سے الگ کوئی مجرد سرگرمی نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اسکول اور معاشرہ ایک دوسرے سے مربوط ہونے چاہییں اور طالب علم کو ایسا علم ملنا چاہیے جو اسے عملی زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بنائے۔ ان کا تعلیمی فلسفہ ہندوستانی معاشرت، جمہوری اقدار اور انسانی شخصیت کی ہمہ جہت ترقی سے وابستہ تھا۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم مفکرین کے تصوراتِ تعلیم کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو بظاہر ان کے درمیان اختلافات نظر آتے ہیں، لیکن ان کے بنیادی مقاصد میں کئی مشترک پہلو موجود ہیں۔ سرسید جدید سائنسی اور عصری علوم کے ذریعے مسلمانوں کی ترقی چاہتے تھے، دیوبندی علما دینی علوم اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کو ضروری سمجھتے تھے، شبلی دونوں کے درمیان توازن کے خواہاں تھے، محمد علی جوہر تعلیم کو قومی و سیاسی بیداری کا وسیلہ سمجھتے تھے، اقبال تعلیم کو خودی، اخلاق اور تخلیقی شخصیت کی تشکیل سے مربوط کرتے تھے، جبکہ آزاد اور ذاکر حسین تعلیم کو وسیع تر قومی اور انسانی ترقی کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔
ان مفکرین کے درمیان اصل اختلاف اس بات پر تھا کہ تعلیم کا بنیادی مرکز کیا ہونا چاہیے۔ ایک طرف سرسید کے ہاں جدید سائنس، عقل اور عصری ضرورتیں نمایاں ہیں، دوسری طرف دینی مدارس کی فکر میں قرآن و حدیث اور اسلامی علمی روایت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ شبلی اور اقبال کی فکر میں ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک تعمیری راستہ تلاش کرنے کی کوشش ملتی ہے۔ ان کے نزدیک جدید علم سے استفادہ ضروری ہے، لیکن ایسا کرتے ہوئے مذہبی، اخلاقی اور تہذیبی بنیادوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان مفکرین نے تعلیم کو محض فرد کی ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اجتماعی تبدیلی کا وسیلہ قرار دیا۔ سرسید کے نزدیک تعلیم مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی پسماندگی سے نکال سکتی تھی؛ دیوبندی علما کے نزدیک یہ دینی روایت کے تحفظ کا ذریعہ تھی؛ شبلی کے نزدیک یہ علمی و تہذیبی شعور پیدا کرسکتی تھی؛ اقبال کے نزدیک تعلیم ایک نئی خود آگاہ اور فعال شخصیت پیدا کرسکتی تھی؛ جبکہ آزاد اور ذاکر حسین کے نزدیک تعلیم ایک جدید، جمہوری اور باشعور معاشرے کی بنیاد بن سکتی تھی۔
مجموعی طور پر انیسویں اور بیسویں صدی کے ہندوستانی مسلم مفکرین کا تصورِ تعلیم ایک ایسے تاریخی بحران کے جواب کے طور پر سامنے آیا جس میں مسلمان سیاسی اقتدار، معاشی قوت، علمی مرکزیت اور تہذیبی اعتماد کے بحران سے دوچار تھے۔ ان مفکرین نے اپنے اپنے فکری زاویوں سے تعلیم کو اس بحران سے نکلنے کا بنیادی ذریعہ سمجھا۔ ان کے درمیان طریقۂ کار کا اختلاف ضرور تھا، لیکن تعلیم کی اہمیت پر سب متفق تھے۔ کسی نے جدید علوم کو ترجیح دی، کسی نے دینی علوم کو، کسی نے دونوں کے امتزاج کی کوشش کی اور کسی نے تعلیم کو قومی و انسانی تعمیر سے جوڑا۔ اس پورے فکری سفر کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلم مفکرین نے تعلیم کو محض کتابی علم یا معاشی ضرورت کے بجائے فرد اور معاشرے کی تشکیل، اخلاقی تربیت، تہذیبی شناخت، فکری آزادی اور اجتماعی ترقی کے وسیع تر تناظر میں دیکھا۔ یہی جامع تصورِ تعلیم ان کی فکری میراث کی بنیادی خصوصیت ہے۔



