کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

اردو میں نستعلیق رسم الخط کا استعمال، مسائل ، حل اور امکانات

اردو میں نستعلیق رسم الخط کا استعمال محض ایک تکنیکی یا طباعتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہماری تہذیبی شناخت، ادبی روایت، بصری جمالیات اور لسانی تاریخ سے جڑا ہوا ایک ہمہ جہت موضوع ہے۔ نستعلیق کو اردو زبان کی “چہرہ شناسی” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ اردو قاری کی نظر میں اردو کا اصل روپ اسی خط میں مکمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو سب سے بڑا چیلنج یہی سامنے آیا کہ اس زبان کی جمالیاتی روح یعنی نستعلیق کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ جدید دور میں جہاں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کمیونی کیشن نے تحریر کے معیار اور رفتار کو بدل دیا ہے، وہاں اردو کے لیے یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ نستعلیق رسم الخط کو عملی، سہل، معیاری اور تکنیکی طور پر مضبوط کیسے بنایا جائے تاکہ اردو اپنی شناخت بھی قائم رکھے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہو سکے۔

نستعلیق رسم الخط کی بنیادی خصوصیت اس کی خوش نویسی، خم دار ساخت، حروف کی نزاکت، اور لفظوں کی نشست میں موجود وہ لطافت ہے جو اردو کے مزاج سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ مگر یہی خوبصورتی جب ڈیجیٹل نظام میں داخل ہوتی ہے تو مسائل کی صورت اختیار کر لیتی ہے، کیونکہ نستعلیق کا ڈھانچہ خطِ نسخ یا رومن کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے۔ نسخ میں حروف نسبتاً سیدھے، واضح اور یکساں قاعدے کے تحت جڑتے ہیں، جبکہ نستعلیق میں حروف کی جوڑ بندی، کشیدہ کاری، لفظوں کا جھکاؤ، حروف کی مختلف شکلیں اور نقطوں کی ترتیب زیادہ متغیر اور فنکارانہ ہے۔ اسی لیے اردو کی کمپیوٹرائزیشن کے ابتدائی دور میں نسخ کو ترجیح دی گئی، کیونکہ وہ سسٹمز کے لیے آسان تھا، مگر اس کے نتیجے میں اردو کی بصری شناخت متاثر ہوئی اور قاری کو وہ “اپنا پن” محسوس نہ ہوا جو نستعلیق سے وابستہ ہے۔

اردو میں نستعلیق کے استعمال کے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ فونٹس کی معیاری دستیابی اور ان کی تکنیکی مطابقت ہے۔ اگرچہ اب متعدد نستعلیق فونٹس موجود ہیں، مگر اکثر فونٹس یا تو مکمل یونی کوڈ سپورٹ نہیں رکھتے، یا مختلف پلیٹ فارمز پر ان کی شکل بدل جاتی ہے، یا پھر ان کی رینڈرنگ میں خامیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ہی متن موبائل، کمپیوٹر اور ویب براؤزر میں الگ الگ نظر آ سکتا ہے، جس سے نہ صرف خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات پڑھنے میں دشواری بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نستعلیق فونٹس کی فائلیں اکثر بھاری ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ویب سائٹس یا ایپلیکیشنز پر لوڈنگ سست ہو جاتی ہے، خاص طور پر وہاں جہاں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو۔ اس تکنیکی مسئلے کے باعث کئی ادارے یا پبلشرز نستعلیق کے بجائے نسخ یا کسی سادہ فونٹ کی طرف چلے جاتے ہیں، جو اردو کے جمالیاتی معیار کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ایک بڑا مسئلہ رینڈرنگ انجن اور لائن بریکنگ کا ہے۔ نستعلیق میں حروف کی نشست اور لفظوں کی شکل ایک خاص انداز سے بنتی ہے، اس لیے جب کمپیوٹر متن کو لائنوں میں تقسیم کرتا ہے تو بعض اوقات لفظ ٹوٹنے لگتا ہے یا شکل بگڑ جاتی ہے۔ اسی طرح کرننگ (حروف کے درمیان فاصلہ)، لیگچر (حروف کا مخصوص جوڑ)، اور کشیدہ (لفظ کی لمبائی بڑھانے کا طریقہ) نستعلیق میں نہایت اہم ہیں، مگر ہر سافٹ ویئر یا براؤزر ان اصولوں کو درست انداز میں نہیں سمجھتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات الفاظ کی ترتیب غیر متوازن ہو جاتی ہے، سطور ٹیڑھی محسوس ہوتی ہیں، یا متن کی خوبصورتی متاثر ہو جاتی ہے۔ یہی مسئلہ اخبارات، رسائل، کتابوں اور ویب پورٹلز کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ان کے لیے خوبصورت، واضح اور تیز رفتار ٹائپ سیٹنگ بنیادی ضرورت ہے۔

نستعلیق رسم الخط کے ساتھ اردو ٹائپنگ کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ اردو میں عام صارف کے لیے ٹائپنگ کی سہولت آج بھی ایک چیلنج ہے، کیونکہ اردو کے کی بورڈ لے آؤٹ، اعراب، ہمزہ، تشدید، مد، اور مرکب حروف کے استعمال میں بہت سے لوگ الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اردو ٹائپنگ کی باقاعدہ تربیت نہیں رکھتی، نتیجتاً وہ یا تو رومن اردو پر انحصار کرتے ہیں یا پھر غلط املا اور غیر معیاری تحریر کو اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ صورت حال اردو کی لسانی صحت کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ جب زبان کی تحریری شکل غیر معیاری ہو جائے تو علمی اور ادبی روایت میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح نستعلیق میں درست املا، درست جوڑ، اور درست علامتوں کے ساتھ لکھنے کے لیے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، جو ابھی عمومی سطح پر کم نظر آتی ہے۔

اردو میں نستعلیق کے استعمال کے مسائل میں ایک اور پہلو “ڈیجیٹل اشاعت اور سرچ ایبلٹی” ہے۔ بہت سی اردو کتابیں اور مواد اب بھی تصویری شکل میں (Image-based PDFs) شائع کیے جاتے ہیں، کیونکہ نستعلیق کی طباعت میں یہی طریقہ آسان سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ متن سرچ نہیں ہو سکتا، کاپی نہیں کیا جا سکتا، اور ڈیجیٹل تحقیق کے لیے مفید نہیں رہتا۔ یونیورسٹیوں اور تحقیق کے میدان میں جہاں حوالہ جات، متن کی تلاش، اقتباسات اور ڈیٹا اینالیسس کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں تصویری متن ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس لیے اردو کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نستعلیق کے ساتھ ساتھ یونیکوڈ بیسڈ اور سرچ ایبل متن کی روایت مضبوط ہو۔

ان مسائل کے حل کی طرف آئیں تو سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ نستعلیق فونٹس کو معیار کے مطابق ترقی دی جائے اور انہیں یونی کوڈ کے مکمل اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ ایسے فونٹس جو ہلکے بھی ہوں، خوبصورت بھی ہوں، اور ہر پلیٹ فارم پر یکساں رینڈر ہوں، اردو کے فروغ کے لیے بنیادی شرط ہیں۔ اس ضمن میں یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری و نجی ادارے، جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیز مشترکہ طور پر اردو کے لیے اوپن سورس اور معیاری نستعلیق فونٹس تیار کریں تاکہ ہر شخص بآسانی انہیں استعمال کر سکے۔ مزید یہ کہ ویب پر نستعلیق کے بہتر استعمال کے لیے جدید رینڈرنگ ٹیکنالوجی، بہتر براؤزر سپورٹ اور CSS/ویب فونٹ آپٹیمائزیشن کی ضرورت ہے، تاکہ نستعلیق خوبصورتی کے ساتھ تیزی سے لوڈ ہو اور پڑھنے میں آسان رہے۔

اردو ٹائپنگ کے مسئلے کے حل کے لیے تعلیمی سطح پر تربیت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اسکول اور کالج میں اردو کمپیوٹنگ، اردو کی بورڈ، اور درست املا کی مشق کو نصاب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح موبائل اور کمپیوٹر پر ایسے کی بورڈز اور ان پٹ میتھڈز کو فروغ دیا جائے جو صارف کے لیے آسان ہوں، جیسے فونیٹک ٹائپنگ، آٹو کریکشن، اور املا کی اصلاح کے ٹولز۔ اگر اردو لکھنے والا صارف آسانی سے درست املا کے ساتھ لکھ سکے تو زبان کی تحریری صحت بہتر ہوگی اور نستعلیق کا استعمال بھی بڑھ جائے گا۔

ڈیجیٹل اشاعت میں تصویری متن کے بجائے یونیکوڈ متن کو ترجیح دینا بھی ایک اہم حل ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پبلشرز، اخبارات اور ادارے اپنی کتابوں اور مواد کو یونیکوڈ میں کمپوز کریں تاکہ وہ سرچ ایبل، ایڈیٹ ایبل اور ریسرچ کے قابل بن سکے۔ ساتھ ہی OCR (Optical Character Recognition) کی ٹیکنالوجی کو اردو نستعلیق کے لیے بہتر بنانا بھی وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پرانی کتابوں اور اخبارات کو ڈیجیٹل متن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اردو نستعلیق OCR مضبوط ہو جائے تو اردو کا علمی سرمایہ بڑی مقدار میں ڈیجیٹل تحقیق کے قابل ہو جائے گا۔

امکانات کی بات کی جائے تو اردو میں نستعلیق کا مستقبل روشن نظر آتا ہے، بشرطیکہ ہم اسے صرف جذباتی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ عملی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آج سوشل میڈیا، بلاگز، ڈیجیٹل جرنلز اور آن لائن کتابوں کی دنیا میں اردو کا دائرہ بڑھ رہا ہے، اور صارفین کی بڑی تعداد نستعلیق کو پسند کرتی ہے۔ اگر نستعلیق فونٹس اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا جائے تو اردو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اپنی شناخت کے ساتھ مضبوط ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ نستعلیق کی جمالیات کو جدید ڈیزائن، ٹائپوگرافی اور برانڈنگ میں استعمال کر کے اردو کو ایک نئی بصری طاقت دی جا سکتی ہے۔ آج کے دور میں جب زبانیں صرف بولی نہیں جاتیں بلکہ “برانڈ” بھی بنتی ہیں، اردو کے لیے نستعلیق ایک ایسا جمالیاتی سرمایہ ہے جو اسے دوسری زبانوں سے ممتاز کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اردو میں نستعلیق رسم الخط کا استعمال ایک تہذیبی ضرورت بھی ہے اور تکنیکی چیلنج بھی۔ مسائل فونٹس، رینڈرنگ، ٹائپنگ، اشاعت اور سرچ ایبلٹی کی صورت میں موجود ہیں، مگر ان کے حل بھی واضح ہیں: معیاری یونی کوڈ فونٹس، بہتر سافٹ ویئر سپورٹ، اردو ٹائپنگ کی تربیت، اور ڈیجیٹل اشاعت کے جدید اصول۔ اگر ہم ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے کام کریں تو نستعلیق نہ صرف اپنی خوبصورتی کے ساتھ قائم رہے گا بلکہ اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں ایک مضبوط، معیاری اور عالمی زبان بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کرے گا۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں