کھوئے ہوئے علم کی بازیافت

ادب اور سماجی نفسیات، پاکستانی تارکین وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا

پاکستانی تارکینِ وطن کی شاعری محض ہجرت کی روداد نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی نفسیاتی تجربے کی ادبی تشکیل ہے۔ جب کوئی فرد اپنا وطن، زبان، تہذیب، محلہ، خاندان اور مانوس فضا چھوڑ کر ایک نئے معاشرے میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف جگہ نہیں بدلتا بلکہ اس کی شناخت، احساسِ وابستگی اور داخلی توازن بھی ایک نئے امتحان سے گزرتا ہے۔ اسی تجربے کا سب سے نمایاں اور دیرپا اثر “ناسٹلجیا” کی صورت میں سامنے آتا ہے، یعنی ماضی، وطن اور کھوئے ہوئے گھر کی یاد کا ایسا جذبہ جو کبھی خوشگوار بھی ہوتا ہے اور کبھی دردناک بھی۔ ادب اور سماجی نفسیات کے تناظر میں پاکستانی تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ یاد صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ شناخت کی تعمیر، ذہنی بقا اور تہذیبی رشتوں کے تحفظ کا ایک نفسیاتی عمل ہے۔ تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا دراصل “خود” (Self) اور “دوسرے” (Other) کے درمیان معلق زندگی کی علامت بن جاتا ہے، جہاں شاعر نہ مکمل طور پر نئے دیس کا ہو پاتا ہے اور نہ پوری طرح پرانے دیس میں واپس جا سکتا ہے۔

سماجی نفسیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کی شخصیت صرف فرد کی داخلی دنیا سے نہیں بنتی بلکہ وہ اپنے سماجی ماحول، گروہی وابستگی اور ثقافتی شناخت سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ وطن دراصل ایک “اجتماعی شناخت” فراہم کرتا ہے، اور جب یہ شناخت ٹوٹتی ہے تو فرد کے اندر ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ یہی خلا ناسٹلجیا کو جنم دیتا ہے۔ پاکستانی تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا اسی خلا کی آواز ہے۔ شاعر جب وطن کی یاد میں ڈوبتا ہے تو وہ صرف ایک جگہ کو نہیں یاد کرتا بلکہ وہ اپنی پہچان کے ٹکڑے جمع کرتا ہے۔ یہ یادیں اکثر بہت چھوٹے اور معمولی مناظر سے وابستہ ہوتی ہیں: گلی کی مٹی، ماں کی آواز، اذان کی لے، بارش کی خوشبو، چائے کی پیالی، پرانی کتابیں، عید کی رونق، یا محلے کی مسجد۔ یہی معمولی مناظر تارکینِ وطن کی شاعری میں غیر معمولی معنی اختیار کر لیتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے “گھر” کی علامت بن جاتے ہیں۔ سماجی نفسیات کے مطابق ناسٹلجیا کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ فرد کو جذباتی تحفظ دیتا ہے اور تنہائی کے احساس کو کم کرتا ہے۔ اسی لیے تارکینِ وطن کی شاعری میں یاد کبھی زخم بھی بنتی ہے اور کبھی سہارا بھی۔

پاکستانی تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا کی ایک بڑی صورت “مکانی یادداشت” (Place Memory) ہے۔ شاعر جب پردیس میں رہتے ہوئے وطن کو یاد کرتا ہے تو وہ اکثر کسی شہر یا کسی گاؤں کی تصویر بناتا ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان یا کسی چھوٹے قصبے کی گلیاں، بازار، درخت، نہر، بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن، یا گھر کی چھت—یہ سب شاعری میں علامت بن جاتے ہیں۔ یہ مکانی یادداشت صرف جغرافیہ نہیں بلکہ جذباتی شناخت ہے۔ شاعر کو نئے دیس میں بہت کچھ مل جاتا ہے مگر وہ “اپنی جگہ” نہیں پا سکتا، کیونکہ جگہ کا تعلق صرف سہولت سے نہیں بلکہ مانوسیت اور تعلق سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسٹلجیا اکثر “جڑوں” کی تلاش بن جاتا ہے۔ شاعر کے لیے وطن کی یاد ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ خود کو مکمل محسوس کرتا ہے، چاہے وہ جگہ حقیقت میں بدل چکی ہو۔

ناسٹلجیا کی دوسری بڑی صورت “ثقافتی یاد” ہے۔ تارکینِ وطن کی شاعری میں وطن کی یاد صرف گھر یا شہر تک محدود نہیں رہتی بلکہ تہذیب، زبان، رسوم اور اجتماعی زندگی کی یاد بن جاتی ہے۔ پردیس میں رہتے ہوئے شاعر کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان میں ہنس بھی نہیں سکتا، اپنے محاوروں میں دکھ بھی نہیں بیان کر سکتا، اور اپنی ثقافتی علامتوں کے بغیر خود کو ادھورا پاتا ہے۔ اردو یا علاقائی زبانیں یہاں شناخت کا بنیادی ستون بن جاتی ہیں۔ سماجی نفسیات کے مطابق زبان فرد کو گروہ سے جوڑتی ہے اور اسے “ہم” کا احساس دیتی ہے۔ تارکینِ وطن جب اردو میں شعر کہتے ہیں تو وہ صرف اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنی شناخت کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں اردو کے ساتھ ساتھ مقامی تہذیبی علامتیں بھی بار بار آتی ہیں: عید، رمضان، محرم، میلاد، شادی کی رسمیں، ماں کے ہاتھ کا کھانا، یا دیسی موسموں کی یاد۔ یہ سب ناسٹلجیا کے ذریعے ایک ثقافتی پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔

تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا کا ایک اہم سماجی نفسیاتی پہلو “دوہری شناخت” (Dual Identity) ہے۔ شاعر ایک طرف نئے دیس میں رہتا ہے، وہاں کے قوانین، زبان اور معاشرت کو سیکھتا ہے، مگر دوسری طرف اس کا دل پرانے دیس میں رہتا ہے۔ یہ کیفیت اسے دو حصوں میں بانٹ دیتی ہے۔ وہ خود کو نہ مکمل طور پر “یہاں” سمجھ پاتا ہے اور نہ مکمل طور پر “وہاں”۔ اس کیفیت کو بعض ناقدین “بیچ کی زندگی” یا liminality کہتے ہیں۔ یہی بیچ کی زندگی ناسٹلجیا کو اور زیادہ شدت دیتی ہے۔ شاعر کی یاد میں وطن ایک مثالی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور یہ مثالی صورت بعض اوقات حقیقت سے زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے۔ سماجی نفسیات کے مطابق ناسٹلجیا اکثر ماضی کو “فلٹر” کر کے پیش کرتا ہے، یعنی انسان ماضی کی تلخیوں کو کم اور خوشیوں کو زیادہ یاد کرتا ہے۔ اسی لیے تارکینِ وطن کی شاعری میں وطن کبھی کبھی ایک خوابیدہ جنت بن جاتا ہے، حالانکہ شاعر جانتا ہے کہ وہاں مسائل بھی تھے۔ مگر پردیس کی اجنبیت کے مقابلے میں وطن کی یاد زیادہ مانوس اور زیادہ محفوظ محسوس ہوتی ہے۔

ناسٹلجیا کی ایک اور صورت “رشتوں کی یاد” ہے۔ تارکینِ وطن کے لیے سب سے بڑا صدمہ اکثر گھر والوں سے دوری ہوتی ہے۔ ماں باپ کا بڑھاپا، بہن بھائیوں کی زندگی، دوستوں کی محفلیں، اور بچپن کے رشتے—یہ سب شاعری میں ایک دردناک کیفیت کے ساتھ آتے ہیں۔ سماجی نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کے لیے تعلقات (Social Bonds) ذہنی صحت کا بنیادی سہارا ہوتے ہیں، اور جب یہ تعلقات کمزور ہو جائیں تو تنہائی اور افسردگی بڑھ سکتی ہے۔ تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا اس تنہائی کے خلاف ایک جذباتی مزاحمت بن جاتا ہے۔ شاعر لفظوں کے ذریعے اپنے رشتوں کو زندہ رکھتا ہے۔ وہ ماں کی دعا کو یاد کرتا ہے، باپ کی خاموش محبت کو یاد کرتا ہے، اور دوستوں کی بے فکری کو یاد کر کے اپنے اندر ایک جذباتی دنیا آباد کرتا ہے۔ یہ دنیا اسے ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔

پاکستانی تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا صرف ماضی پرستی نہیں بلکہ بعض اوقات ایک سیاسی اور سماجی شعور بھی رکھتا ہے۔ شاعر جب وطن کو یاد کرتا ہے تو وہ صرف خوبصورتی بیان نہیں کرتا بلکہ وطن کے زخم بھی یاد کرتا ہے: غربت، ناانصافی، دہشت گردی، طبقاتی فرق، سیاسی بحران، اور عدم تحفظ۔ اس طرح ناسٹلجیا ایک پیچیدہ کیفیت بن جاتی ہے جہاں محبت بھی ہے اور شکایت بھی۔ شاعر کے دل میں وطن کے لیے چاہت ہے مگر وہ اس کی تلخ حقیقتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ تضاد تارکینِ وطن کی شاعری کو زیادہ گہرا اور زیادہ حقیقی بناتا ہے۔ سماجی نفسیات کے مطابق یہی ambivalence یعنی دوہرا جذبہ انسانی نفسیات کی ایک بڑی حقیقت ہے، اور تارکینِ وطن کی شاعری میں یہ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔

تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا کا ایک اہم فنی پہلو یہ ہے کہ یہ شاعری علامتوں اور استعاروں سے بھر جاتی ہے۔ وطن ایک محبوب کی طرح، ایک ماں کی طرح، ایک خواب کی طرح، یا ایک کھوئی ہوئی جنت کی طرح سامنے آتا ہے۔ شاعر پردیس کو اجنبی شہر، سرد رات، بے رنگ روشنی یا خاموش سڑک کی علامت بناتا ہے، جبکہ وطن کو دھوپ، خوشبو، مٹی، اذان، اور چہروں کی گرمی کے استعاروں میں ڈھالتا ہے۔ یہ علامتی نظام ناسٹلجیا کو صرف احساس نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک ادبی جمالیات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ قاری بھی اس شاعری کے ذریعے اپنے اندر کے “گھر” کو یاد کرنے لگتا ہے، چاہے وہ خود پردیس میں نہ بھی ہو، کیونکہ ناسٹلجیا انسانی تجربے کی مشترکہ حقیقت ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ادب اور سماجی نفسیات کے تناظر میں پاکستانی تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا ایک نہایت اہم اور گہرا موضوع ہے۔ یہ ناسٹلجیا وطن کی یاد سے شروع ہو کر شناخت، زبان، تہذیب، رشتوں اور وجودی سوالات تک پھیل جاتا ہے۔ یہ فرد کے اندر ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش ہے، تنہائی کے خلاف ایک جذباتی دفاع ہے، اور اپنی تہذیبی جڑوں کی حفاظت کا ایک ادبی عمل ہے۔ تارکینِ وطن کی شاعری میں ناسٹلجیا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان جہاں بھی چلا جائے، اس کے اندر ایک “گھر” ہمیشہ رہتا ہے، اور جب وہ گھر دور ہو جائے تو یاد اسے لفظوں میں بسا کر اپنی زندگی کا سہارا بنا لیتی ہے۔ یہی شاعری کی قوت ہے کہ وہ فاصلے کو بھی معنی میں بدل دیتی ہے اور جدائی کے دکھ کو بھی ایک تخلیقی جمال میں ڈھال دیتی ہے۔

ڈاؤن لوڈ یا کسی اور معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں


نئے مواد کے لیے ہماری نیوز لیٹر رکنیت حاصل کریں